مشعل راہ جلد سوم — Page 401
401 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کیا کرنا ہے؟ جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے اس کے متعلق وقتا فوقتاً میں ہدایات دیتارہا ہوں اور جو جو نئے خیال میرے دل میں آئیں یا بعض دوست مشورے کے طور پر لکھیں ان کو بھی اس منصوبے میں شامل کر لیا جاتا ہے۔لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے آج میں اس ذمہ داری سے متعلق کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔خدا کے حضور بچے کو پیش کرنا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اور آپ یاد رکھیں کہ وہ لوگ جو خلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیار کی نسبت سے ان قربانیوں کو سجا کر پیش کیا کرتے ہیں۔قربانیاں اور تھنے دراصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔آپ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں۔عام چیز جو گھر کیلئے لیتے ہیں اسے با قاعدہ خوبصورت کاغذوں میں لپیٹ کر اور فیتوں سے باندھ کر سجا کر آپ کو پیش نہیں کیا جاتا۔لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے تحفہ لینا ہے تو پھر دکاندار بڑے اہتمام سے اسکو سجا کر پیش کرتا ہے۔پس قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض لوگ تو مینڈھوں اور بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو ان کو زیور پہنا کر پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاوٹیں کرتے ہیں۔انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہوتی ہیں۔انسانی زندگی کی سجاوٹ تقویٰ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اسکی محبت کے نتیجہ میں انسانی روح بن ٹھن کر تیار ہوا کرتی ہے۔پس پیشتر اس کے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کئے جائیں ان ماں باپ کی بہت ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ ان کے دل کی حسرتیں پوری ہوں۔جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنار کھتے ہیں وہ تمنائیں پوری ہوں۔اس سے پہلے مختلف ادوار میں جو واقفین جماعت کے سامنے پیش کئے جاتے رہے انکی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ کئی قسم کے واقفین ہیں۔کچھ تو وہ تھے جنہوں نے بڑی عمروں میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو خود پیش کیا کہ خوش قسمتی کے ساتھ ان کی اپنی تربیت بہت اچھی ہوئی تھی اور وقف نہ بھی کرتے تب بھی وہ وقف کی روح رکھنے والے لوگ تھے۔وہ ( رفقاء) کی اولا دیا اول تابعین کی اولاد تھے۔انہوں نے اچھے ماحول میں اچھی پرورش پائی اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اچھی عادات سے سجے ہوئے لوگ تھے۔واقفین کا یہ گروہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے زندگی کے ہر شعبہ میں نہایت کامیاب رہا۔