مشعل راہ جلد سوم — Page 366
366 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پیدا کر سکیں وہاں بچوں کی تربیت از خود ہوتی ہے اور اس کیلئے اتنی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔مگر جہاں جماعت احمدیہ کے افراد بکھرے ہوئے ہوں اور اجتماعی حیثیت کی بجائے بالعموم انفرادی حیثیت میں رہتے ہوں وہاں بچوں کے لئے بہت سی وقتیں پیدا ہو جاتی ہیں کیونکہ معاشرہ غیر ہے، غیر ہی نہیں بلکہ معاندانہ معاشرہ ہے۔اسلامی قدروں سے بالکل برعکس ہی نہیں ان پر حملہ کرنے والا معاشرہ ہے۔اس پہلو سے والدین کو عام حالات کے مقابل پر زیادہ محنت کرنی چاہیے لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ عام حالات سے نسبتا کم محنت کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو پھل بھی دیتا ہے۔اس معاشرہ میں رہتے ہوئے جو لوگ اپنے بچوں کی طرف بچپن سے ہی توجہ کرتے ہیں ان کے دل میں دین کی محبت ڈالتے ہیں، اچھی عادتیں ان کے اندر پیدا کرتے ہیں ان کو اللہ کے فضل کے ساتھ بڑے ہوکر کوئی خطرہ نہیں رہتا۔اس لئے رمضان المبارک میں خصوصیت سے اس گزشتہ کمی کو جہاں جہاں بھی محسوس ہو پورا کرنا چاہیے۔رمضان میں صرف روزوں کی تلقین نہیں کرنی چاہیے بلکہ روزوں کے لوازمات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔میں نے ایک دفعہ سرسری طور پر جائزہ لیا نو جوانوں سے پوچھنا شروع کیا روزہ رکھا ہے یا نہیں رکھا۔کیسا رہا؟ کس طرح رکھا؟ تو اکثر یہ دیکھا گیا یعنی اکثر یہ جواب ملا کہ ہم نے صبح سحری کھا کر روزہ رکھا اور نفلوں کا کوئی ذکر نہیں تھا۔حالانکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں۔اور میں نے اس میں تہجد کی سنت قائم کر کے تمہارے لئے مزید برکتوں کے راستے پیدا کر دیئے ہیں۔پس تہجد تو ویسے بھی بہت اچھی چیز ہے۔قرآن کریم نے اس کو بہت ہی تعریف کے رنگ میں پیش فرمایا ہے اور اس کی بہت سی برکتیں بیان فرمائی ہیں۔یہ مقام محمود تک لے جانے والی چیز ہے لیکن رمضان المبارک سے تہجد کا بہت گہرا تعلق ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے رمضان کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواتنی لمبی تہجد کی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقریباً ساری رات کھڑے ہو کر گزار دیتے تھے۔رمضان المبارک کے ساتھ تہجد کا گہراتعلق ہے پس رمضان کے ساتھ تہجد کا بہت ہی گہرا تعلق ہے وہ روزے جو تہجد سے خالی ہیں وہ بالکل ادھورے اور بے معنی سے روزے ہیں۔اس لئے بچوں کو خصوصیت کے ساتھ تہجد کی تلقین کرنی چاہیے۔قادیان یار بوہ کے جس ماحول کا میں نے ذکر کیا ہے اس میں تو عموماً یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا خصوصاً قادیان میں کہ کوئی بچہ