مشعل راہ جلد سوم — Page 30
مشعل راه جلد سوم 30 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی تعریف مراد لی گئی ہے۔یعنی وہ لوگ جو سچائی کی پیروی کرنا جانتے ہوں جن کا مزاج ایسا ہو کہ وہ جھوٹ کی پیروی نہ کریں گے۔ظن کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ سچائی کے پیچھے چلیں گے خواہ وہ ان کو کسی طرف لے جائے۔اس پیروی کے نتیجہ میں ان کو کسی چیز کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔یہ متقی ہیں اور جو اس قسم کا متقی ہو اللہ تعالیٰ اس سے وعدہ کرتا ہے کہ اس کو دینی اصطلاح میں بھی منتقی بنایا جائے گا اور اس کے لئے تمام شکوک دور کئے جائیں گے اور تمام یقین کی راہیں اس کے لئے کھول دی جائیں گی۔لَا رَيْبَ فِيهِ سے بھی اس تعریف کی تصدیق ہوتی ہے۔ریب ظن کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے علم کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا۔تو فرمایا جو تقی ہیں وہ تو بات ہی علم کی بناء پر کرتے ہیں، سچائی کی پیروی کرتے ہیں۔ان کے لئے ریب کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ریب والے تو وہ ہیں جو خیالی تصورات کی دنیا میں بسنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کے لئے ہر طرف اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اور شک ہی شک ہیں۔پس یہ وہ بنیادی تعریف ہے جس کی طرف قرآن کریم ہماری راہ نمائی کرتا ہے اور اگر تقویٰ کی یہ تعریف احمدی کے اوپر صادق آجائے تو اس کا دماغ روشن ہو جاتا ہے۔اسی تعریف میں اس سچائی کی خاطر قربانی کا مادہ بھی داخل ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو سچائی کی پیروی کرنا جانتا ہے وہ اس بات سے بے پرواہ ہو جاتا ہے کہ دنیا کیا کہے گی اور کیا سمجھے گی۔اس کے نتیجہ میں اس کے اندر ایک جرات پیدا ہوتی ہے۔کہانیوں میں بسنے والے کے دل میں کبھی جرات پیدا نہیں ہوتی۔جو خود ظنوں میں مبتلا ہو وہ آخر کس بات کے لئے جرات کے ساتھ قربانی کرے گا۔چنانچہ یورپ کی سائنس کی تاریخ کا آپ مطالعہ کریں تو پتہ لگتا ہے کہ وہ ساری کی ساری قرآن کریم کی اس ابتدائی آیت کی سچائی کی دلیل ہے۔سائنس، یورپ اور سچائی احیائے نو کا وہ دور جس میں یورپ داخل ہوا اس میں سائنسدان وہی تھا جو سچ کو سچ کہنا جانتا تھا اور اس بات سے بے پرواہ ہو کر کہ دنیا کیا کہتی ہے وہ سچ کو سچ کہتا تھا۔یورپ کی تاریخ میں ایسے کئی سائنسدان گزرے ہیں جن کو سچائی کے الزام میں آگ میں زندہ جلا دیا گیا۔اس جرم میں کہ انہوں نے کائنات میں جو دیکھا وہی بیان کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ جس طرح مذہبی طور پر Persecution یعنی ایذاء رسانی کی جاتی ہے اس طرح یورپ میں ایک لمبا عرصہ سائنسدان کی Persecution کی گئی ہے۔اس کو خوفناک سزائیں دی گئیں۔خواہ وہ عملی سائنس سے تعلق رکھتا تھا یا فلسفہ