مشعل راہ جلد سوم — Page 307
مشعل راه جلد سوم 307 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہے اور جتنا بھی اس کا شکر کیا جائے کم ہے۔کہ اس نے اپنے فضل اور رحم کے ساتھ ہمیں بڑی کامیابی کے ساتھ ہالینڈ کا یہ پہلا یورپین اجتماع منعقد کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔یعنی یورپ کے خدام الاحمدیہ کا یورپین اجتماع۔شروع میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ ہالینڈ کی جماعت ابھی چھوٹی ہے اور جو خدام یہاں تھے وہ بھی زیادہ تربیت یافتہ نہ تھے۔اس لئے مہمانوں کو کچھ دقت پیش آئی۔خصوصا ر ہائش کے انتظام میں پہلی رات آنے والے مہمانوں نے بہت تکلیف اٹھائی لیکن خندہ پیشانی سے اسے برداشت کیا۔اور جہاں تک ممکن ہو سکا اس وقت تمام مقامی خدام نے اور میز بانوں نے جہاں جہاں بھی جگہ مناسب مل سکی ان کو مہیا کرنے کی کوشش کی لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ جماعت چھوٹی ہے ابھی اس لئے اس اجتماع میں میزبانوں اور مہمانوں کا فرق بالکل اٹھ گیا تھا۔اور بعض صورتوں میں تو ہالینڈ کی جماعت مہمان بن گئی تھی اور آنے والے میزبان بنے ہوئے تھے۔مثلا کھانے کے انتظام میں انگلستان کا جو وفد آیا تھا اس نے بہت ہی محنت کے ساتھ اور بڑی مہارت کے ساتھ مہمانوں کا کھانا تیار کیا اور انہوں نے جو اپنے مہمانوں پر حسن ظن رکھا۔آنیوالے مہمانوں نے اور مقامی مہمانوں نے اس حسن ظن کو بھی پورا کر دکھایا۔اگر چہ ان کو بتایا گیا تھا کہ 500 مہمان ہوں گے لیکن حسن ظنی کرتے ہوئے که 500 مہمان کم از کم 700 کا کھانا کھائیں گے۔انہوں نے 700 کا کھانا تیار کیا۔خدا کے فضل سے کوئی کھانا ضائع نہیں گیا۔اسلئے میں نہیں کہہ سکتا کہ اگر 800 کا پکاتے تو اس میں کوئی حصہ ضائع ہو جاتا۔اجتماعات کا مقصد حضور نے فرمایا اجتماعات کا مقصد خالصۂ دینی ہے۔اور اگر چہ کھیلوں وغیرہ کا انتظام بھی کیا جاتا ہے عام علمی مقابلے بھی ہوتے ہیں لیکن آخری مقصد و منتہا دین ہی ہے۔ان قوموں میں جن میں ہم آکر کچھ