مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 301

301 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بیوقوف مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جو چیز ان کے نزدیک اچھی ہوتی ہے وہ بچے کو بار بار کھلا رہی ہوتی ہیں وہ یہ سوچ ہی نہیں سکتیں کہ یہ بہت بھیانک حرکت ہے بعض دفعہ اس سے بچے کو ماں سے ہمیشہ کے لئے نفرت پیدا ہو جاتی ہے بعض دفعہ نفسیاتی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے کبھی ایسی حرکت کرنے کی ہرگز کوشش نہیں کرنی چاہیے۔اس عمر میں بچے کے ساتھ زبر دستی بہر حال نہیں کرنی چاہیے۔یہ پیار کی عمر ہے اور پیار کی عمر بھی ایسی کہ جودلکشی کی عمر ہے۔اگر آپ دلکشی کے ذریعہ سے بچے کی فطرت پر اثر انداز ہوں گے تو بچہ اثر قبول کرے گا بھیا نک بن کر آپ اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ایسی صورت میں وہ آپ سے دور بھاگے گا اور آپ اپنی کوشش میں نا کام ہو جائیں گے بچہ اس چیز سے دُور بھاگے گا جس کی طرف آپ اُسے زبر دستی لانا چاہتے ہیں۔اس لئے اس کے ساتھ پیار کرنا ضروری ہے اور وہ دلکشی سے ہوسکتا ہے۔زبردستی کا پیار بھی ممکن ہی نہیں۔پس ماں باپ کو بڑی ذہانت کے ساتھ اور بیدار مغزی کے ساتھ اپنے چھوٹے بچوں کے بارہ میں خصوصیت سے دلچسپی لینی چاہیے۔بچے کے دل میں نماز کی محبت پیدا کرنا اولین کام ہے۔اگر بچے اپنے ماں باپ کو باقاعدہ سج دھج کر پیار کے ساتھ اور سلیقہ کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھیں گے تو پیشتر اس کے کہ وہ اسکول جانے لگیں ان کے دل میں بھی نماز کی محبت پیدا ہو جائے گی اسی طرح بعض اور عادات ہیں بچے ان کو دیکھیں گے تو ان کے دل میں ان کا بھی پیار پیدا ہو جائے گا۔ٹیلی ویژن اور بچے اس بارہ میں ٹیلیویژن کے پروگرام خصوصیت سے توجہ طلب ہیں۔ان کے متعلق بہت سی باتیں کہنے والی ہیں وہ بعد میں کسی وقت انشاء اللہ وقت ملا تو کہوں گا۔لیکن اس میں بھی اختیار کی باتیں ہیں۔شروع میں چھوٹی عمر میں بچوں کو ٹیلی ویژن سے نوچ کر الگ تو پھینک نہیں سکتے اس لئے ان کو کسی حد تک ٹیلی ویژن دیکھنے دینا ہے۔البتہ بچوں کو کیا دیکھنا ہے ان کے ساتھ بیٹھ کر کیا تبصرے کرنے ہیں کس طرح آہستہ آہستہ بعض اچھی چیزوں کا فطری طور پر پیار بڑھانا ہے بعض بُری چیزوں سے روکنا ہے۔یہ ایک بہت ہی گہری حکمت کا کام ہے بڑی جان سوزی بھی چاہتا ہے اور دماغ سوزی بھی۔ان سارے امور میں قرآن کریم نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے ہمارے لئے راستے روشن کئے ہوئے ہیں۔اگر آپ نے قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا ہو تو کوئی ایک بھی راستہ ایسا نہیں کوئی ایک بھی پگڈنڈی ایسی نہیں جس پر آپ قدم رکھنا چاہیں اور اندھیرے آپ کو ڈرائیں کیونکہ جس رستے پر بھی اور جس پگڈنڈی پر بھی آپ قدم رکھنا چاہیں گے