مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 282

282 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم سے سیکھ کر ہی نہیں چلے۔بہت سے ایسے احمدی نوجوان بھی دیکھے جو پاکستان میں کبھی نظر ہی نہیں آتے تھے ان کے یہاں آنے کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ جماعت کے ساتھ منسلک ہو گئے۔اب انہوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے کہ جو چاہو ہم سے کام لو اور جس طرح چاہو ہمیں اچھا اور نیک بنادو۔پہلے وہ اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے تھے اور جو لوگ ان کے پاس جاتے تھے وہ ان سے دور بھاگتے تھے۔ایسا عنصر خاص طور پر جو پاکستان میں جماعت کی نظر سے الگ رہا اور جماعتی تربیت کے ہاتھ سے پیچھے ہٹتا رہا تھا وہ یہاں آکر جماعت سے متعلق تو ہو گیا لیکن علمی لحاظ سے اور تربیتی لحاظ سے ابھی پیچھے ہے اور خطرہ یہ ہے کہ ان کا اخلاص اور جماعت کے ساتھ ان کا تعلق ضائع نہ ہو جائے یا نقصان کا موجب نہ بن جائے۔یہ عصر ضائع تو ان معنوں میں ہوسکتا ہے کہ یہ نوجوان اب اپنے آپ کو پیش کر رہے ہیں تعلق بڑھا رہے ہیں اس کے باوجود ان کی اصلاح کے لئے ان کے اخلاق درست کرنے کے لئے ان کی اعلیٰ تربیت کے لئے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔اللہ تعالیٰ اتنا اچھا موقع مہیا کرے اور جماعت اس موقع سے استفادہ کرنے سے غافل رہ جائے ، تو یہ بہت ہی بڑا نقصان ہے۔دوسرا پہلو اس کا یہ ہے کہ ان نوجوانوں نے جو تعلق قائم کیا ہے اس تعلق کے باوجود اگر ان کے اخلاق وہی رہے اگر ان کا علمی معیار اور تربیتی معیار وہی رہا تو مقامی دوست تو خصوصیت کے ساتھ ان کو ( دین حق کا سفیر سمجھ رہے ہوں گے اور پاکستانی احمدیوں کے ساتھ معیار کو اس طرح جانچ رہے ہوں گے۔اور واقعہ ایسا ہوا بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ دو جرمن دوستوں نے اس بارہ میں بڑی تفصیل سے کھل کر مجھ سے گفتگو کی۔ان میں سے ایک دوست ہمارے ساتھ سیر پر جاتے رہے۔سیر کے دوران ان سے بات کرنے کا بڑا اچھا موقع میسر آیا۔ان سے بڑی لمبی گفتگو ہوئی۔انہوں نے جو باتیں بتا ئیں ان سے معلوم ہوا کہ یہ ایک بہت ہی بڑا اور حقیقی خطرہ ہے پہلے ان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جو وہاں سے آئے ہیں اور کس کس قسم کے لوگ ہیں۔ہر آنے والے کے بارہ میں وہ سمجھتے تھے کہ خدا کے گھر سے آیا ہے ، وہاں سے آ رہا ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے، جہاں ( رفقاء) نے نئی نسلوں کی تربیت کی۔وہ ہر شکل کو احمدیت کے نمائندہ کے طور پر دیکھتے تھے۔بعض دفعہ شکل وصورت کی طرز، رہنے سہنے، اوڑھنے بچھونے ، لباس اور باتوں کی طرز ایسی ہوتی ہے جو بتا دیتی ہے کہ اس میں دین نہیں ہے۔میں نے انہیں بتایا جب آپ ایسے لوگوں کو ( دین حق) کے نمائندہ کے طور پر دیکھیں اور آپ کو پتہ نہ ہو کہ یہ وہاں بھی نمائندہ نہیں تھے، وہاں بھی پیچھے رہنے والوں میں سے تھے تو آپ یہ تاثر لیں گے کہ ہمیں تو کچھ اور۔