مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 255

255 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دعائیں کیں پھر بھی میری خدا نے نہیں سنی۔تو یہ وہ ذکر نہیں جو طمانیت قلب نصیب کرنے والا ذکر ہے۔بعض دفعہ وقتی طور پر اگر اس ذکر میں بھی انسان خالص ہو تو وہاں بھی اس عرصہ کے لئے طمانیت قلب ضرور نصیب ہو جاتی ہے مگر ضرورت کا ذکر اگر طمانیت بخشے بھی تو یہ آنی فانی طمانیت ہوتی ہے۔آئی اور غائب ہوگئی جس طرح کا ذکر چلا گیا اسی طرح اس کی طمانیت بھی چلی جاتی ہے اور طمانیت کا مضمون ایسا ہے جس میں ٹھہراؤ کا معنی پایا جاتا ہے۔آنا فانا آنے جانے والی چیز کو آپ طمانیت بخش نہ کہہ سکتے ہیں نہ اس میں طمانیت کے مضمون کے ساتھ کسی قسم کی موافقت پائی جاتی ہے۔اطمینان تو کہتے ہی ہیں اس چیز کو جسمیں بظاہر ٹھہرا ؤسا ہو،سکمیت ہو، کوئی چیز آ کر ٹھہر جائے اور گھر بنالے، مقام کر بیٹھے۔اس نقشے کو یا جونقشہ ذہن میں اُبھرتا ہے اس کے ساتھ طمانیت کا تعلق۔ہے۔ذکر الہی سے یہ مراد پس ذکر الہی سے یہ مراد ہے کہ کبھی ضرورت کے وقت آپ کو خدا یاد آ جائے جو آپ کی ضرورت کے وقت کا خدا ہوتو وہ آپ کو مستقل طمانیت بخش دے گا۔وہ خدا یقیناً ایسا رحیم کریم خدا ہے کہ بعض دفعہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ بندہ ہے بے وفا مجھے اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتا ہے میری ضرورت کے وقت یعنی میرے دین کی ضرورت کے وقت کھلا دیتا ہے پھر بھی بسا اوقات رحمان و رحیم خدا اُس ذکر کے نتیجے میں بھی اسے وقتی طمانیت بخش دیتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ بسا اوقات ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوتی ہیں سمندر میں کشتی والے بڑے خوش مطمئن سفر کر رہے ہیں اچانک ہواؤں کا رخ پلٹتا ہے اور شدید طوفان برپا ہوجاتا ہے۔ایسا خطرناک طوفان کہ بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اس وقت ایسے لوگ بھی جو جب امن کی حالت میں تھے تو خدا تعالیٰ کو بھلا بیٹھے تھے یا خدا کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے اور فرضی خداؤں کی عبادت کیا کرتے تھے وہ بھی ایک خدا کو خالصتہ پکارنے لگ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی اس پکار کو بھی سن لیتا ہے اور انہیں وقتی طور پر طمانیت بخشتا ہے یہاں تک کہ وہ پھر زمین کے محفوظ کناروں تک آرام سے پہنچ جاتے ہیں۔اللہ فرماتا ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی خدا ایسا کرتا ہے کہ جب انہیں امن نصیب ہوگا تو پھر وہ مجھے بھلا دیں گے پھر اسی طرح فرضی خداؤں کو بلانے لگ جائیں گے جس طرح پہلے بلایا کرتے تھے تو یہ طمانیت تو مل جاتی ہے لیکن وقتی طمانیت ہوتی ہے۔