مشعل راہ جلد سوم — Page 254
254 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم سے شروع نہ ہو اس وقت تک بیرونی امن کا دعویٰ بالکل بے معنی اور لغو بات ہے۔میں آج اس مجلس میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انسان کی ذات سے امن کیسے شروع ہوتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) کہ سنو! خبردار اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پایا کرتے ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ انسان کی ذات سے امن شروع ہوتا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ امن کیسے نصیب ہو؟ تو اس کا نہایت آسان اور نہایت مؤثر اور قوی ذریعہ ذکر الہی ہے۔ذکر الہی کا مضمون تو بہت ہی وسیع ہے۔انسان کو جو اندرونی امن نصیب ہوتا ہے، قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اس کا آغاز ذکر الہی سے ہوتا ہے اور بیرونی امن بھی تبھی دنیا میں انسان پھیلا سکتا ہے اگر اسے اندرونی امن وہ نصیب ہوا ہو جس کا آغاز ذکر الہی سے ہوتا ہے ورنہ کئی قسم کے اور بھی اندرونی امن ہیں جو در حقیقت نظر آنے والے امن ہیں۔ان میں کوئی گہرائی نہیں اور کوئی حقیقت نہیں ہوا کرتی۔وہ بالآخر اُس انسان کا بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جو بظاہر اس امن کا حامل ہوتا ہے۔DRUGS (ڈرگس) کے ذریعے بھی تو ایک امن نصیب ہو جاتا ہے۔دنیا کی لذتوں میں ڈوب کر بھی ایک قسم کا امن نصیب ہو جاتا ہے مگر جس امن کی اسلام بات کرتا ہے وہ وہ امن نہیں۔وہ وہ امن ہے جو خالصہ ذکر الہی سے ملتا ہے۔ذکر الہی کے موضوع حضرت مصلح موعود کا ایک لیکچر پس ذکر الہی کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت ہی وسیع مضمون ہے اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود کا ایک لیکچر ذکر الہی کے موضوع پر موجود ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور خدام کو چاہیے کہ جس حد تک ممکن ہوا سے پڑھیں کیونکہ اس میں ذکر کی بہت سی انواع بیان ہیں ، طریقہ کار بیان ہیں، ذکر کیسے کیا جاتا ہے؟ اور کس طرح اُس سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔مگر بہر حال مختصراً میں آپ سے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ ذکر بعض دفعہ تو انسان اس وقت شروع کرتا ہے جب اسے خود ضرورت محسوس ہوتی ہے مثلاً کسی مشکل میں وہ مبتلا ہے۔Assylum کے لئے درخواست دی ہوئی ہے رڈ ہوتی چلی جارہی ہے درخواست۔اور آخر وکیل کہہ دیتا ہے کہ اب اپیل میں بھی کوئی گنجائش نہیں اس وقت خدایا د آ جاتا ہے اور انسان کہتا ہے کہ میں ذکر کرتا ہوں مگر اطمینان مجھے پھر نصیب نہیں ہورہا۔میں نے بہت