مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 210

210 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کمزوری جماعت کو ہلاک ہونے دیا، فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَدًا۔پھر کبھی قیامت تک تیری عبادت نہیں کی جائے گی کیونکہ عبادت کرنے والے تو میں نے تیار کئے ہیں اور میں نے عبادت کے گر تجھ سے سیکھے تھے۔کبھی کسی عبادت کرنے والے نے تیری ایسی عبادت نہیں کی تھی۔جیسی محبت اور پیار اورعشق کے ساتھ میں نے کی۔یہ لوگ میرے پروردہ ہیں انہیں عبادت کے راز میں نے سکھائے ہیں۔اے خدا! اگر آج تو انہیں مٹنے دے گا تو کون ہے پھر جو تیری عبادت کرے گا۔اس میں دھمکی نہیں تھی ( نعوذ باللہ من ذالک) اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا خدا کو دھمکی دے رہے ہیں۔یہ بھی عشق کا اظہار تھا کہ میرا دل برداشت نہیں کر سکتا کہ دنیا تیری عبادت سے خالی ہو جائے۔میری اتنی محنت ہے۔میں نے اس رستہ میں اپنا خون بہایا۔تیری راہ میں تکلیفیں اٹھائیں۔کیوں؟ اس لئے کہ عبادت کرنے والے پیدا کردوں اور آج مجھے نظر آ رہا ہے کہ یہ بظاہر ایک طاقتور دشمن کے مقابل پر مغلوب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں، اگر تیر افضل شامل نہ ہو۔خدا نے اس دعا کو کس طرح سنا؟ ان چند لوگوں کو یہ قوت عطا فرمائی کہ انہوں نے سارے مکہ کے جگر کاٹ کر پھینک دیئے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اہل مکہ نے اپنے جگر پیش کر دیے تھے۔جنہیں مسلمانوں کی تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔ان کے سارے غرور اس دن تو ڑ دیے گئے اور اسلام کی فتح کی داغ بیل اگر ڈالی گئی تھی تو بدر کے دن ڈالی گئی تھی۔بہت ہی عظیم الشان وہ دن تھا لیکن عبادت کے زور پر جیتا گیا ہے کسی انسانی طاقت سے نہیں جیتا گیا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی وہ عارفانہ دعا تھی جس نے اس دن کی کایا پلٹی ہے۔ہماری سب سے بڑی دولت پس آج ہم اس ساری دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے ہیں آج تو ہماری وہ نسبت بھی نہیں ہے۔۳۱۳ اور ایک ہزار میں تو کوئی نسبت ہو سکتی ہے لیکن ارب ہا ارب انسانوں کے مقابل پر ہم احمدیوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔ایک کروڑ کا اندازہ لگایا گیا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ پورا کروڑ ہو۔کم و بیش بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے مقابل پر کئی ارب آبادی ہے اور پھر ساری طاقتیں بھی ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور وہ لوگ دنیا کی طاقتوں کے سرچشموں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔سیاست ان کے ہاتھ میں ہے۔دولتیں ان کے پاس ہیں۔دنیا کے دیگر نظام فلسفہ، سائنس اور دیگر علوم ان سب کے سرچشموں پر وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ حسب توفیق دنیا میں بانٹ رہے ہیں۔اب احمدیوں کے پاس کیا ہے؟ اس دنیا کے مقابل پر تو کچھ بھی نہیں لیکن