مشعل راہ جلد سوم — Page 201
مشعل راه جلد سوم 201 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی لیکن اس وقت مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ اکثر بچے ننگے سر اس لئے بیٹھے ہیں کہ وہ گھر سے ٹوپی لے کر نہیں چلے۔معلوم ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے کی عادت اتنی مٹ گئی ہے کہ انہوں نے ٹوپی کو زاد راہ میں شامل ہی نہیں کیا۔اب یہاں پہنچ کر شریف بچے اپنے سر کے گرد چادر میں لپیٹ رہے ہیں۔کوئی قمیص اونچی کر کے سر ڈھانک رہا ہے۔کسی نے چادر سر پر رکھ لی ہے۔کسی نے رومال لپیٹنا شروع کیا ہے۔کسی نے مفلر باندھنا شروع کیا ہے۔مگر بعضوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔وہ بے چارے کیا کریں اب وہ قمیص اتار کرسر پر تو نہیں پہن سکتے۔گو تھوڑی بہت شرم و حیادکھائی دیتی ہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ٹوپی پہنے کا تصور مٹتا جارہا ہے۔حالانکہ یہ بہت اہم چیز ہے اور بچوں کے کردار سنوارنے میں اس کا بڑا دخل ہے۔اس لیے بچے اس کو معمولی چیز نہ سمجھیں۔اگر سارے بچے ایک ہی قسم کی ٹوپیاں پہن کر یہاں بیٹھے ہوتے ، اندازہ کریں یہ مجلس کتنی خوبصورت لگتی۔اس وقت میرے سامنے جو بچے بیٹھے ہوئے ہیں وہ ٹوپیاں پہن کر آئے ہیں۔ان کو دیکھیں ما شاء اللہ کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ان کے اندر ذمہ داری کا احساس نظر آ رہا ہے۔یہ بے ٹوپیوں والوں کی نسبت زیادہ پیارے لگ رہے ہیں اور زیادہ اچھے دیکھائی دے رہے ہیں۔اس لئے میں ان بچوں سے جو ٹوپی نہیں پہنتے یہ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی تہذیب کو کیوں اپناتے ہیں۔وہ احمدی بچے ہیں۔ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ احمدیت نے دنیا کو ایک نئی تہذیب دینی ہے اور اس تہذیب میں یہ بات داخل ہے کہ ہم اپنے سر ڈھانک کر رکھیں۔اس سے ذمہ داری کا بہت بڑا احساس پیدا ہوتا ہے۔اطفال الاحمدیہ کا امتیازی نشان پس اطفال الاحمدیہ کی مجالس میں آئندہ سے کوئی بچہ ننگے سر نظر نہیں آنا چاہیے۔پس خدام الاحمدیہ یا اطفال الاحمدیہ کے شعبے کو چاہیے کہ وہ سارا سال اطفال کو تحریک کرتے رہیں کہ وہ ٹوپی پہنیں اور اگر ممکن ہو تو ایک ٹوپی ستی ہی لیکن خوبصورت ڈیزائن کی مجلس خدام الاحمدیہ تیار کر کے اس کو عام رواج دے اور وہ اطفال الاحمدیہ کی ٹوپی ہو جس پر مثلا کلمہ طیبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ لکھا ہوا ہو۔ٹوپی ہر احمدی بچے کا نشان بن جائے گا۔بہت پیاری سی ٹوپی پر کلمہ طیبہ کی خوبصورت کی لہر بن جائے۔آج کل بچوں میں جو کپڑے رائج کئے جاتے ہیں اُن پر عجیب اوٹ پٹانگ فقرے لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور ایسی زبانوں میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں جن کا بچوں کو کچھ پتہ ہی نہیں لگتا۔بچے آنکھیں بند کر کے ان فیشنوں کے پیچھے چلتے رہتے ہیں۔پس اپنے بچوں کو کوئی بہتر فیشن دینا پڑے گا تا کہ وہ بھی کوئی چیز دنیا کے سامنے پیش کریں ان