مشعل راہ جلد سوم — Page 199
199 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم گندی گالیاں دیتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔یہ بات آپ کو بجتی نہیں۔اس پر وہ نہایت گندی گالی دے کر کہنے لگے کہ کس جھوٹے نے حضور کو بتایا ہے۔میں تو گالی دیتا ہی نہیں۔غرض بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا۔اس لئے یہ نظام سلسلہ کا کام ہے کہ وہ بچوں پر نظر رکھے اور ان کو بتائے کہ تمہارے اندر یہ یہ بُرائیاں موجود ہیں۔تم ان کو دور کرنے کی طرف توجہ دو اور اپنی اصلاح کی فکر کرو۔بچو ! یا درکھو سچ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کے کردار کو بناتی ہے۔مگر اب سچ غائب ہوتا چلا جارہا ہے۔اب تو بڑوں کی سوسائٹی میں بھی یہ ایک ایسا جانور بن گیا ہے جس کو شاید کہیں کہیں آپ دیکھیں۔ورنہ عام طور پر یہ کہیں نظر ہی نہیں آتا اور بے چارے انسان کا عجیب حال ہے کہ دنیا کے جو عام جانور ہیں جب وہ کم ہونے شروع ہو جائیں تو اُس کو اُن کی فکر پڑ جاتی ہے اور کہتا ہے کہ ان کو بچانے کا انتظام کرو۔چنانچہ آسٹریلیا میں ابھی لاکھوں کی تعداد میں کنگرو ہے۔لیکن ان کو فکر پڑی ہوئی ہے کہ یہ جانور نظروں سے غائب نہ ہو جائے۔یہ کم ہوتا چلا جارہا ہے۔اس کی حفاظت کا انتظام کیا جائے۔اسی طرح طوطوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے۔چیلوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے۔گدھوں کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے۔کو آلہ (Kuala) ایک جانور ہے۔اس کی حفاظت کا انتظام ہو رہا ہے۔غرض ان قوموں کو تو یہ فکر ہے کہ جانور بھی نظروں سے غائب نہ ہو جائیں۔لیکن یہاں سچ غائب ہو رہا ہے اور کسی کو اس کی کوئی فکر نہیں۔بلکہ کہتے ہیں سیچ غائب ہو ہی جائے تو اچھا ہے۔جہاں بھی ظاہر ہوتا ہے مصیبت ہی ڈالتا ہے۔مگر اسے بچو ! آپ نے اس کی حفاظت کرنی ہے۔آپ احمدی بچے ہیں۔آپ نے اس میدان کو جیتنا ہے۔اگر آپ نے سچ کی حفاظت نہ کی تو پھر آئندہ کبھی کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نظر نہیں آئے گا۔یہ سچ کی عادت ہے جو انسان کے کام آیا کرتی ہے۔اگر آج آپ کو خدانخواستہ جھوٹ کی عادت پڑ گئی تو پھر بڑے ہو کر آپ کو کوئی سچا نہیں بنا سکے گا۔اگر بنا سکے تو اس پر بہت محنت کرنی پڑے گی۔جھوٹ ایک ایسی گندی عادت ہے کہ وہ انسان کے اندر آہستہ آہستہ راسخ ہو جاتی ہے اور پھر جھوٹے کو بعض دفعہ پستہ بھی نہیں لگتا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے وہ جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے۔کہانیاں بنائے جاتا ہے۔یہ اس کی عادت بن جاتی ہے۔چنانچہ ہمارے جھنگ کے ماحول میں ایسے لوگ بڑی کثرت سے ملتے ہیں جن کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔اس ضلع میں بہت زیادہ کثرت کے ساتھ جھوٹ بولا جاتا ہے۔جو لوگ جھوٹی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور نظر آرہا ہوتا ہے کہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن اُن کو پتہ ہی نہیں لگ رہا ہوتا۔وہ بیٹھے بیٹھے جھوٹی کہانیاں بنائے جاتے ہیں۔