مشعل راہ جلد سوم — Page 13
مشعل راه جلد سوم 13 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ ہے اور مجھ سے کیا توقع رکھتا ہے، دنیا کے ادنی آدمیوں سے جن سے میرا کچھ بھی واسطہ نہیں، نہ وہ مجھے کچھ دے سکتے ہیں اور نہ مجھ سے کچھ چھین سکتے ہیں، اُن سے شرما کر میں عبادت سے غافل ہورہا ہوں اور اپنے خالق و مالک سے بے وفائی کر رہا ہوں۔غرض یہ ہے وہ جھوٹی شرم جوا کثر غیر ملکوں میں بسنے والوں کی راہ میں روک بن جایا کرتی ہے۔خود مجھے اس کا تجربہ ہے۔انگلستان میں جب میں تعلیم حاصل کرتا تھا تو بہت سے پاکستانی جو ویسے نماز پڑھتے تھے لیکن لوگوں کے سامنے نماز پڑھنے سے وہ شرماتے تھے۔بعض احمدی بھی اس کمزوری کا شکار ہوئے چنانچہ ہم نے اُن کو سمجھایا۔میرے ساتھ میر محمود احمد صاحب ناصر بھی پڑھا کرتے تھے۔یو نیورسٹی میں ہمیں جب وقت ملتا تھا ہم وہاں دونوں مل کر نماز باجماعت ادا کیا کرتے تھے۔شروع میں لوگوں نے تعجب کیا ہوگا مگر ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوئی لیکن رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض دفعہ پروفیسر کلاس روم یہ کہہ کر خالی کر دیا کرتے تھے کہ تمہاری نماز کا وقت ہو گیا ہے۔تم یہاں نماز پڑھ لو۔پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں غیروں سے شرمانا یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔اس لئے اس معاملہ میں اپنے دل کو خوب کھنگالیں اور صاف کریں اور یہ عزم کریں کہ خواہ سارا جر منی بھی آپ کی نماز پر قہقہے لگارہا ہو آپ ایک کوڑی کی پر واہ بھی نہیں کریں گے۔احباب جانتے ہیں چند سال پہلے یورپ اور امریکہ کے لئے میں اپنے ذاتی سفر پر نکلا تھا اور اپنی بچیوں کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔میں نے اُن کی تربیت کی خاطر انہیں اس بات کا پابند کیا حالانکہ عورتوں پر نماز با جماعت فرض نہیں ہے کہ وہاں میلوں میں پھیلی ہوئی سفاری پارکس یا دوسری جگہوں پر جہاں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، وہاں عین سب لوگوں کے درمیان ہم نماز باجماعت پڑھتے تھے۔آگے میں کھڑا ہو جاتا تھا، پیچھے میری بچیاں اور کوئی احمدی دوست اگر ہوں تو وہ بھی ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ لوگ ہمارے ارد گرد کھڑے ہو جاتے اور کچھ دیر تعجب سے دیکھتے اور پھر سوال کرتے تھے کہ یہ کیا ہو رہا تھا۔جب ہم اُن کو بتاتے تھے تو ان کی ہنسیاں غائب ہو جاتی تھیں۔اُن کے دل میں احترام کے جذبات پیدا ہو جاتے تھے اور اس سے ( دعوت الی اللہ ) کی کئی راہیں کھل جاتی تھیں۔کئی لوگ ہمارا پتہ پوچھتے تھے۔چنانچہ وہ ظاہری ندامت جس سے انسان کے دل میں جھوٹا خوف پیدا ہوتا ہے اس طرح سب کے سامنے نمازیں پڑھنے سے ہمیں وہ بھی نہیں پہنچی تھی۔پہنچتی بھی تو کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ خوف ہی سارا جھوٹا ہے اس کی حقیقت ہی کوئی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کبھی نہیں شرمانا چاہیے۔عبادت ہی میں انسان کی عظمت ہے۔اس