مشعل راہ جلد سوم — Page 7
7 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم بھی تھے اور نہتے بھی۔وہ سب کے سب ایسے حال میں اسلام کے دفاع کے لئے نکل کھڑے ہوئے کہ اُن کے پاس لڑنے کے سامان بھی پورے نہیں تھے بلکہ پہننے کے کپڑے بھی پورے نہیں تھے۔کسی کے پاس تلوار تھی۔کسی کے پاس محض جھنڈا تھا۔کسی کے پاس لکڑی کی تلوار تھی مگر جو کچھ بھی کسی کے پاس تھا وہ لے کر خدا کے دین کی حفاظت کے لئے میدان میں حاضر ہو گیا۔چنانچہ ایک جنگ اس میدان میں لڑی گئی جو بدر کا میدان تھا اور ایک اس خیمہ میں لڑی جا رہی تھی جہاں دراصل فتح و شکست کا فیصلہ ہونا تھا یعنی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ۔بے حد گریہ وزاری کے ساتھ روتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے حضور یہ عرض کر رہے تھے:۔اللَّهُمَّ إِن تُهْلِكُ هَذِهِ العِصَابَةَ مِنْ اَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (مسند احمد بن حنبل جلد ا صفحه ۳۰ صفحه ۳۲) کہ اے میرے اللہ! مجھے اور کچھ پرواہ نہیں۔مجھے تو تیری ذات کے تقدس کی فکر ہے۔اگر یہ عبادت گزار بندے اس میدان میں ہلاک کر دیے گئے تو پھر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔یہ کوئی دھمکی کا رنگ اس لئے نہیں تھا کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے عشق و محبت میں فنا ہو کر مجسم عجز وانکسار بن گئے تھے۔یہ دراصل اظہار غم تھا، اظہار فکر تھا ، بے چینی کی ایک آواز تھی ، درد و کرب میں ڈوبی ہوئی ایک چیخ تھی کہ اے میرے رب ! میں نے تو ساری عمر کی محنت کے ساتھ تیرے عبادت گزار بندے تیار کئے تھے۔اگر آج مشرکوں کے ہاتھوں یہ عبادت کرنے والے بھی ہلاک ہو گئے تو میرے بعد اور کون ہوگا جو تیرے عبادت گزار بندے پیدا کر سکے۔مجھ سے بڑھ کر عبادت کا حق اور کون ادا کر سکتا ہے۔میں نے خود ان کو دین سکھایا۔ان کو عبادت کے اسلوب بتائے۔ان کو راتوں کو جاگنے کی لذت بخشی۔ان کو جاگتے ہوئے اور سوتے ہوئے اور لیٹتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے اور بیٹھتے ہوئے ہمیشہ یاد الہی میں محور ہنے کی تعلیم دی۔پس مجھے یہ غم نہیں ہے کہ یہ لوگ مارے جائیں گے۔مجھے تو یہ غم ہے کہ اے میرے آقا! اگر یہ لوگ مارے گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا؟ کون لوگ ہوں گے جو تیری عبادت کے لئے اس دنیا میں آئیں گے؟ یہ ایک ایسی دعا تھی جس نے وہیں اس خیمہ میں اس جنگ کا فیصلہ کر دیا۔مورخ حیران ہوتے ہیں اور حیران ہوتے رہیں گے کہ یہ کیسے ممکن تھا کہ بدر کے میدان میں ۳۱۳ بوڑھے اور بچے۔کمزور اور نحیف لوگ عرب کے چوٹی کے لڑنے والوں پر فتح پاگئے۔جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظارہ کو دیکھ کر یہ فرمایا تھا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشے اٹھا کر اس میدان میں ڈال دیے۔وہ ایسے چوٹی کے لڑنے والے تھے