مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 5

مشعل راه جلد سوم 5 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مرہون منت ہوا کرتی تھی نہ صرف خود کفیل ہو گئی بلکہ اس نے کئی دوسری جماعتوں کے بوجھ اٹھالئے اور آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یورپ کی ان جماعتوں میں شمار ہوتی ہے جو اپنے بوجھ اٹھانے کے بعد باہر کی جماعتوں کے بوجھ بھی اٹھا رہی ہیں۔چنانچہ جہاں کہیں بھی سلسلہ کو ضرورت پیش آتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جرمنی کی جماعت کے چندہ میں سے ایک خطیر رقم اُس طرف منتقل کر دی جاتی ہے۔پس یہ ہے وہ الہی نشان اور اس کے فضلوں کا وہ پہلو جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بنیں۔جرمنی کے نوجوانوں کے لئے محبت کے جذبات اس سلسلہ میں سب سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جرمنی کی جماعت کے اکثر نوجوان بڑی مشکلات میں سے گزر رہے ہیں اور گزرتے رہے ہیں۔میرے دل میں ان کے لئے خاص طور پر محبت کے جذبات موجزن ہیں۔اس لئے کہ انہوں نے پیش آمدہ مشکلات کے باوجود خدا کے حقوق ادا کئے اور سخت مشکلات میں سے گزرتے رہنے کے باوجود حمد باری سے ان کے سینے معمور اور یاد الہی سے ان کی زبانیں تر رہیں اور جب کبھی خدا کی خاطر ان سے مالی قربانی کی اپیل کی گئی تو انہوں نے اس بارہ میں کسی قسم کی کنجوسی نہیں دکھائی۔بہت سے ایسے دوست بھی ہیں جو خدا کے فضل سے موصی ہیں جو شرح کے مطابق اپنے چندے ادا کرتے ہیں۔ان کے حالات اپنے ملک میں ایسے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ واپس جا کر ان کا کیا بنے گا۔بعض دوستوں کے حالات جرمنی میں ایسے ہیں کہ ان کا سارا مستقبل بظاہر مخدوش نظر آتا ہے لیکن جب خدا کی خاطر ان کو اپنے پاک مالوں سے جُدا ہونے کی اپیل کی جاتی ہے، جو انہوں نے بڑی محنت کے ساتھ پاکیزہ رزق کے طور پر کمائے ہوتے ہیں، تو بڑے کھلے دل کے ساتھ وہ خدا کی راہ میں ان عزیز مالوں سے جُدا ہوتے ہیں۔وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ہمارا کیا بنے گا؟ میں ان کو بتا تا ہوں کہ ان کا وہی بنے گا جو ہمیشہ خدا کے بندوں کا بنا کرتا ہے۔اللہ ہی ہے جو ان کا کفیل ہے۔اللہ ہی تھا جو ان کا کفیل تھا اور اللہ ہی ہے جو آئندہ بھی ہمیشہ ان کا کفیل رہے گا۔ان کی قربانیاں ان کے مستقبل کی ضمانتیں ہیں اور اس سے بہتر ضمانت دنیا میں اور کسی قوم کو نصیب نہیں ہوسکتی۔وہ لوگ جو خدا کی راہ میں قربانیوں سے نہیں ڈرا کرتے اللہ خود ان کا نگہبان ہو جاتا ہے۔وہ خود ان کا نگران بن جاتا ہے۔جرمنی میں پریس کانفرنسز میں لوگوں کے پوچھنے پر میں ان کو بتا تارہا ہوں کہ یہ انگوٹھی ( جو حضور نے اس