مشعل راہ جلد سوم — Page 84
مشعل راه جلد سوم 84 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے رہو۔اپنا گھر سمجھ کر رہو۔تقریبات کا جو منظر ہے وہ تو نا قابل بیان ہے۔خاصا گرم ملک ہے۔اور اوپر سے شامیانے اور وہ دن خاص طور پر تھا بھی گرم۔بے حد تکلیف میں لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اوپر سے ایک لمبا پر وگرام جس میں پہلے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی تقریر اور پھر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی تقریر۔اس سے پہلے لمبی تلاوت اور ایک لمبی نظم اور پھر ساتھ ساتھ ان کے ترجمے۔یعنی جو دو گھنٹے کا پروگرام ہو وہ چار گھنٹے میں جا کر ختم ہو۔اور پھر بیچ میں کرم الہی صاحب کی بھی تقریر۔پھر آخر پر میری تقریرتھی۔مجھے پر یہ تاثر تھا کہ جب تک میرے کچھ کہنے کی باری آئے گی صرف احمدی بیٹھے رہ جائیں گے باقی سب جاچکے ہوں گے۔حقیقتا میں یہی سمجھ رہا تھا۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھ رہا تھا۔میں نے کہا اے خدا ! ان کو پیغام پہنچا نا ہے خواہ ظفر اللہ خاں کی زبان سے پہنچے یا ڈاکٹر سلام کی زبان سے پہنچے۔پیغام ( دین حق ) تو پہنچ رہا ہے۔میں اس پر بڑا راضی ہوں۔لیکن حیرت کی انتہاء نہ رہی جب دیکھا کہ آخر وقت تک سب لوگ بیٹھے رہے اور اہل سپین کے مزاج کو جو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ بے انتہاء باتیں کرنے والی قوم ہے اور زیادہ دیر بیٹھ ہی نہیں سکتے۔وہ ادھر ادھر پھرنے لگ جاتے ہیں۔خوب باتیں کرتے ہیں۔پھر وہ بہت بیج کھاتے ہیں اور ہر وقت خربوزوں یا تربوز کے بیج کھاتے رہتے ہیں۔ان کی توجہ زیادہ بیج کی طرف ہی رہتی ہے۔وہاں سارے ہزاروں کے مجمع میں کسی نے بیچ نہیں کھایا۔کسی نے باتیں نہیں کیں۔اور اس خاموشی سے تقریر سنی ہے کہ تقریر کے دوران اگر کوئی بچہ بھی بولتا تھا تو ساتھ بیٹھا ہو آدمی اس کو خاموش کر دیتا تھا۔اور بیت کا صحن بھر گیا۔اس سے باہر شاہراہ تھی اس سے باہر لوگ کھڑے تھے۔گاؤں امڈ آیا تھا۔اور بہت دور دور سے بعض لوگ پہنچے ہوئے تھے۔بعد میں جب ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہوئی ہے۔آپ کس طرح تشریف لائے یعنی بعض احمدی دوستوں نے ان سے مل کر سوال کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر یہ خبر یں سنی تھیں۔ہمیں تو کوئی دعوت نامہ نہیں پہنچا۔یعنی ریڈیو کا نظام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مسلسل پروپیگنڈا کر رہا تھا۔باوجود اس کے کہ ہم ان کو یہ بتا چکے تھے کہ یہاں ہماری کل تعداد میں ہے۔آپ اندازہ کریں ایک غیر ملک میں ، ایک عیسائی ملک میں تمہیں کی تعداد کا کوئی دعویدار ہو اس کے ساتھ یہ سلوک کہ بیت بشارت سپین کی افتتاحی تقریب کو تقریباً ایک ہفتہ تک سپینش ٹیلی ویژن دن میں تین تین بار دکھاتی رہی ہے۔اپنے ہی خرچ پر انہوں نے باقی جو نظام ہیں یعنی دنیا کے ٹیلی ویژن کے نظام ہیں ان کو بھی بھجوائی۔اس سے پہلے سوئٹزر لینڈ کے ایک احمدی نے مجھے یہ کہا کہ آپ کو پبلسٹی پر خرچ کرنا پڑے گا ورنہ ہماری