مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 78 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 78

مشعل راه جلد سوم 78 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی کہ ان آلوں کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔کئی عورتیں اور بچے جو دیکھتے تھے ان کی چیخیں نکل جاتی تھیں۔ان کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی تھی۔اتنا زور پڑا اس ادارے پر جس نے وہ آلے رکھے ہوئے تھے کہ آخر ان کو وہ آلے وہاں سے اٹھانے پڑے۔اور اوپر بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے کہ کمزور دل عورتیں اور بچے وہاں نہ جائیں۔وہ اس قسم کے خوفناک آلے تھے۔وہ تو لمبی کہانی ہے مثلاً آنکڑے کا پہیہ ہوتا تھا جس طرح ہمارے ہاں پرانے زمانہ میں کنوؤں سے پانی نکالنے کا انتظام ہوتا تھا ٹنڈیں لگی ہوئی تھیں۔اس طرح اس کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوتے تھے۔ان کے اوپر انسان کو الٹا کرگس دیا جاتا تھا اور اس کو آہستہ آہستہ اس طرح گھماتے تھے کہ وہ جب دائیں یا بائیں پانچے جاتے تھے تو سارا بوجھ اس آنکڑے کا جلد پر آجاتا تھا وہ اور اندر گھتے تھے اور زخمی جسم کو اور تکلیف پہنچاتے تھے اور مسلسل اس حالت میں وہ چکر دیتے چلے جاتے تھے۔بڑی بڑی بوتلوں میں اس طرح بند کر دیا جا تا تھا کہ وہ ہاتھ اور پاؤں ٹیرھا کرنے کی بھی گنجائش نہیں پاتے تھے۔صرف سانس کے لئے کارک میں سوراخ رکھا جاتا تھا تا کہ مر نہ جائے اور انتہائی اذیت میں وہاں وہ آدمی اسی طرح کھڑا رہتا تھا اور سسک سسک کر مدتوں کے بعد جان دیتا تھا اور جب تک وہ اس جرم کا اقرار نہیں کر لیتا تھا جو جرم اس نے نہیں کیا ہوتا تھا اس وقت تک اسے یہ سزا اس لئے ملتی تھی کہ Confess کرے۔یعنی اقرار جرم کرے۔اور جب وہConfess کر لیتا تھا تو کہتے تھے دیکھا جھوٹے اب سمجھ آئی تمہیں۔اب تمہیں اس کی سزا ملے گی۔یعنی پہلے زبردستی جھوٹ بلوا کر اس سے اس جرم کا اقرار کر وایا جاتا تھا جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔پھر اس کے بعد اس جرم کی سزا دی جاتی تھی جواس بیچارے نے اس پہلے ظلم سے تنگ آکر مان لیا ہوتا تھا۔حضور کی دعائیں اور اہل سپین کا والہانہ استقبال یہ وہ ملک تھا جہاں بیت احمدی۔۔۔بنانے کے لئے پہلی مرتبہ حضرت خلیفہ المسح الثالث تشریف لے گئے۔جب حضور پہلی دفعہ وہاں گئے تو اس وقت بھی ابھی پین میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ایسی شدید مذہبی حکومت وہاں قائم تھی کہ جس کے نتیجہ میں غیر عیسائی فرقوں کو بھی وہاں چرچ بنانے کی اجازت نہیں تھی۔جہاں تک میرا علم ہے ابھی تک غالباً رومن کیتھولکس کے سوا اور دوسرے چرچ وہاں نہیں ملیں گے۔وہاں حضور نے دعائیں کیں ، وہاں گریہ وزاری کی ، اللہ تعالیٰ سے التجائیں کہیں کہ اے اللہ تعالیٰ ! وہ پاک تبدیلی پیدا فرمادے کہ ہماری دیر یہ تمنائیں برآئیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے چند سال کے اندر