مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 4

4 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم مسکراتے تھے اور دل خون ہورہے ہوتے تھے لیکن مصائب و آلام کے اس پر آشوب دور میں جہاں تک دنیا کی آنکھ کا تعلق ہے وہ جماعت احمدیہ کے چہروں پر ایک کھلتی ہوئی مسکراہٹ ہی دیکھتی رہی۔دنیا کی کوئی طاقت احمدیوں کی مسکراہٹوں کو ان سے چھین نہ سکی اور وہ مسکراہٹیں ہمارے لئے ایک ابدی رحمت اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا نشان بن گئیں اور جس طرح پہلے بارہا جماعت ان مشکلات کے دور سے گزر کر ترقی کی راہوں پر گامزن ہوئی تھی ایک دفعہ پھر ہم نے اللہ کے فضلوں کا نظارہ دیکھا اور اُس نے اپنی رحمت سے۔ڈولتے ہوئے دلوں کو سہارا دیا، گرتی ہوئی عمارتوں کی جگہ نئی بہتر اور زیادہ شاندار عمارتیں تعمیر کرنے کی توفیق عطا فرمائی، لٹتے ہوئے مالوں میں برکت بخشی، برباد ہوتی ہوئی تجارتوں کو از سر نو استحکام بخشا۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کا ہم نے ایک نیا دور دیکھا جو پہلے دور سے کہیں زیادہ عظیم فضلوں والا اور پہلے دور سے کہیں زیادہ طمانیت اور تسکین بخش دور تھا۔یہ سلسلہ خدا کے فضل سے جاری رہا ہے اور جاری رہے گا، اور جیسا کہ میں نے کہا ہے دنیا کا کوئی ہاتھ اس خدائی تقدیر کے لکھے کو مٹا نہیں سکتا۔اس ضمن میں کچھ تقاضے ہم سے بھی ہیں ، یہ صبر وفا کے تقاضے ہیں، استقلال کے ساتھ اپنے رب کی را ہوں پر گامزن رہنے کے تقاضے ہیں، اس کی ہر رضا پر راضی رہنے کے تقاضے ہیں خواہ جنگی کی صورت ہو یا آسانی کی صورت ہر حال میں رب کریم کے حضور سر تسلیم خم کرنے کے تقاضے ہیں۔اگر ہم یہ تقاضے پورے کرتے رہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو ہمیشہ پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ہمارے حق میں پورا کرتا رہے گا۔جرمنی کی جماعت اس پہلو سے خدا کا ایک زندہ نشان ہے۔اس سفر پر روانہ ہونے سے پہلے میں نے ۱۹۷۴ ء سے پہلے کا چندے کا ریکارڈ نکلوایا اور پھر ۱۹۷۴ء کے بعد کے چندے کا ریکارڈ دیکھا تو یوں معلوم ہوا کہ پہلے دور کو بعد کے دور سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔یہ وہ ملک ہے جہاں کی جماعت احمدیہ بعض اوقات خود کفیل بھی نہیں ہوتی تھی اور جسے باہر کی جماعتوں کے ذریعہ مدددینی پڑا کرتی تھی اور جو تھوڑا سا چندہ آہستہ آہستہ بڑھتار ہاوہ بمشکل اس مقام تک پہنچا کہ یہ جماعت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔پھر وہ زلزلے آئے جن کا میں نے ذکر کیا۔پھر اللہ کی راہ کے مہاجرین اپنے ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اس ملک میں آکر اللہ کے فضلوں اور رحمتوں کے سہارے پر انہوں نے پناہ لی۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا سایہ وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ دیکھتے دیکھتے اس ملک کی جماعت احمدیہ کی کایا پلٹ گئی۔چنانچہ یہ جماعت جو بعض دفعہ اپنے کام چلانے کے لئے دوسری جماعتوں کی