مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 678

678 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم مشرکوں کے ساتھ اپنے اموال اور نفوس اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو یہاں بات بالکل کھل گئی ہے۔یہاں تلوار کا جہاد مراد نہیں ہے خصوصیت کے ساتھ۔پہلے اس آیت سے ذہن میں آسکتا تھا کہ تلوار کا جہاد مراد ہے مگر آنحضرت صلعم نے یہ بات خوب کھول دی ہے کہ اپنے اموال اور نفوس کے ساتھ اور آیت کریمہ میں بھی پہلے اموال کا ذکر ہے پھر نفوس کا اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔خدا تعالیٰ نے تمہیں جس رنگ میں بھی پیغام حق پہنچانے کی توفیق پہنچائی ہے۔پیغام حق پہنچاؤ۔تو تم جہاد فرض پورا کر رہے ہو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جوش دعوت الی اللہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک قول ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۲۹۱ اور صفحہ ۲۹۲ پر درج ہے۔جو بہت ہی پیارا ہے اور اس سے سخت دلوں میں کھلبلی مچ جانی چاہیے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دل کا یہ حال تھا تو ہم غلاموں کا کیا حال ہوگا۔فرماتے ہیں ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں۔کیونکہ آپ کو غیر معمولی ذمہ داریاں تھیں آپ کو مرکز میں رہ کر ان فرائض منصبی کو ادا کرنا تھا اس لئے یہ خواہش دل کی دل میں ہی رہی۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش رائیگاں نہیں گئی بلکہ مقبول ہوئی اور آج اس زمانے میں میرے خلافت کے دور میں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جوتیوں کے طفیل ہے۔آپ کی خواہش من و عن پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ جیسا کہ آپ تشریح فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں گھر گھر پھر کر خدا تعالیٰ کے بچے دین کی اشاعت کریں۔اور اس ہلاک کرنے والے شرک وکفر سے جودنیا میں پھیلا ہوا ہے۔لوگوں کو بچالیں۔اب یہ فقرہ بطور خاص معنی خیز ہے اگر خدا تعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھا دے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کر کے ( دعوت الی اللہ ) کریں۔اور اس ( دعوت الی اللہ ) میں زندگی ختم کر دیں۔اب دیکھیں بعینہ یہ اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش پوری ہو رہی ہے۔مجھے جواللہ تعالیٰ نے جنون عطا کیا ہے پھرنے کا۔جگہ جگہ پہنچنے کا مختلف جماعتوں تک پہنچنے کا مختلف جماعتوں کے ذریعے مختلف مواقع پر ( دعوت الی اللہ ) کے انتظامات کی وجہ سے وہاں جا کر اپنی زبان میں پیغام پہنچانے کا۔یہ دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا ہی ہے جو مقبول ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔اور یہ فقرہ بے معنی نہیں کہ انگریزی سکھا دے اور اچانک انگریزی کا کیسے خیال آ گیا۔دراصل مجھے انگریزی بہت نہیں آتی مگر جتنی بھی آتی ہے اللہ ہی نے سکھائی ہے۔کیونکہ میرا بچپن تعلیمی لحاظ سے نہایت ہی نکھا تھا اور انگریزی میں بات کرنے کا سلیقہ سکھنے