مشعل راہ جلد سوم — Page 675
مشعل راه جلد سوم 675 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:- اِنْفِرُوْاخِفَافًا وَّثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَالِكُمْ خَيْرُ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ۔(تو به آیت: 41) اس کا سادہ ترجمہ یہ ہے نکل کھڑے ہو ہلکے بھی اور بھاری بھی اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔یہاں لفظ ہلکے اور بھاری پر غور ہونا چاہیے کہ اس کا کیا مطلب ہے یا کیا مطالب ہیں چنانچہ اس پہلو سے حضرت امام راغب کی ایک تحریر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس میں تقریباً اس لفظ ہلکے اور بھاری کے تمام مختلف معانی اکٹھے کر دیے گئے ہیں، جو عربی لغت کے لحاظ سے سارے درست قرار پاتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپ کو اس مضمون کی تفصیل کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو جائے گی فرماتے ہیں:۔انفرواخفافاًو ثقالاً کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد جوان اور بوڑھے ہیں یعنی یہ خطاب جوانوں سے بھی ہے اور بوڑھوں سے بھی ہے اور اس سے مراد غرباء اور امر انہیں یعنی غریبوں سے بھی خطاب ہے اور امراء سے بھی خطاب ہے جو ان کے لئے چلنا پھرنا آسان اور ہلکا ہوتا ہے۔بوڑھے کے لئے بھاری ہوتا ہے۔پس یہ بہت ہی لطیف معنی ہے جو اس آیت کا حضرت امام راغب نے اخذ فر مایا کہ خواہ تمہیں جہاد پر نکلنا آسان ہو تم ہلکے پھلکے محسوس کر دیا عمر کے تقاضے کے پیش نظر چلنا دو بھر ہواور بوجھل محسوس کرو پھر بھی خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو اور پھر غریب کے لئے سفر مشکل ہوتا ہے اور امیر کے لئے آسان ہوتا ہے کیونکہ غریب کو سواری نہیں ملتی اور کئی قسم کی دقتیں اس کی راہ کے لئے روک بن جاتی ہیں پس وہ ہلکا نہیں چل سکتا اگر چہ بظاہر اس پر کوئی اور بوجھ نہیں ہوتا مگر اس کا جہاد میں نکلنا مشکل ہوتا ہے۔اور امیر کو وقسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں تو پھر حضرت امام راغب یہی فرما رہے ہیں اس سے مراد غرباء اور امراء ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ