مشعل راہ جلد سوم — Page 668
668 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم رکھتے تھے، جو ادب سے دیکھتے تھے ان کے متعلق یاد رکھیں کہ صرف آواز میں ہی دھیمی نہیں رکھتے تھے، نظریں بھی نیچی رکھا کرتے تھے۔اب میں خطبہ دیتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ محبت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ طریق نہیں تھا۔ان کو اس سے بہت زیادہ محبت تھی جو آپ کو مجھ سے ہے مگر اپنی آواز میں بھی دھیمی رکھتے تھے اور اپنی نظروں کو بھی نیچار کھتے تھے یہاں تک کہ بعض صحابہ سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد پوچھا گیا کہ آپ کی شکل کیسی تھی تو دھاڑیں مار مار کے رونے لگے، زار و قطار رونے لگے۔اتنا حسین چہرہ تھا کہ میں چاہتا بھی تو نظر پڑ ہی نہیں سکتی تھی اور پھر محبت اور عشق کے تقاضے کے نتیجے میں مجھے جرات بھی نہیں ہوتی تھی کہ میں گھور کے دیکھوں، بغور سے دیکھوں۔اب میں یاد کرتا ہوں اور جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے تو میں بتا نہیں سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی تفصیل کیا تھی۔پس یہ سارے وہ آداب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے سیکھے ہیں۔اب ان پر غور کریں تو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ ان آداب کے احسان کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو قیر کرتے چلے جائیں گے اور آپ کی عظمت کا تصور آپ کے دل میں بڑھتا چلا جائے گا، اپنے آپ کو ہمیشہ زیر بار سمجھیں گے اور یہ وہ صحبت ہے جس صحبت کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ یہ مز کی تمہارے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس مز کی نفس کی صحبت میں رہو۔اگر یہ صحبت مل جائے تو وہ جو مسائل پہلے بیان کئے گئے ہیں یہ کرو، وہ کرو، وہ تو بالکل آسان اور ہر قسم کی مشکل سے آزاد ہو جائیں گے۔مطبوعه الفضل انٹر نیشنل 2 تا18اکتوبر 1998ء)