مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 665

665 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم کرتا، ان کو سمجھانے کا یہ طریق تھا کہ وہ چیز حاصل کر کے مہیا کر دیتا تھا تا کہ جب بچے واپس آئیں تو ان کے لئے موجود ہو۔تو تربیت کے مختلف رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں۔سچی بات کرنے میں ضروری نہیں کہ وہ کڑوی بات بھی ہو، سچی بات کہنے کے انداز الگ الگ ہیں۔جب کچی بات کرنی ہی پڑے تو خواہ کسی کو کڑوی لگے وہ ضرور کرنی ہے۔لیکن اگر آپ یہ پسند کرتے ہوں کہ اس بات کا کوئی ایسا تکلیف دہ اثر نہ پڑے تو یہ ممکن ہے۔میں نے اپنی زندگی میں بارہا اس کو آزمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی ساری عمر اپنے بچوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا جس کو میں پورا نہ کر سکا ہوں۔اس کے نتیجے میں میں خوش ہوں۔میرے بعد اللہ اسی حال پر ان کو قائم رکھے، یہ میری دعا ہے۔آپ بھی اپنے بچوں کے لئے یہی دعا کیا کریں اور جب یہ دعا کریں گے تو اس عمل کے بعد ہونی چاہیے جو اس دعا کے مطابق ہو۔ورنہ وہی منافقت والی بات آجائے گی۔آپ کے لئے بھی بچوں کی خاطر دل میں ایسا درد ہونا چاہیے جو اللہ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ میں نے محسوس کیا اور میں جانتا ہوں کہ اللہ اس درد کو کبھی ضائع نہیں کرتا، توقع سے بڑھ کر پھل لگاتا ہے۔تو اپنے گھروں میں تجربہ تو کر کے دیکھیں کتنا آسان تجر بہ ہے۔بچوں سے پیار ہوا کرتا ہے۔ان کے حق میں یہ باتیں کرنی ہیں، اس میں کونسی مشکل ہے۔لیکن جو مشکل ہے وہ یہ کہ سر سے ٹالنے کی کوشش نہ کریں بچوں کو۔جب بھی ٹالیں گے ہمیشہ کے لئے وہ ٹل جائیں گے۔پھر آپ کو ان کی نیکی دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات میں سے، جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے، بہت بڑے واقعات ہیں اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے وہ واقعات بڑے بیان کئے ہوئے ہیں اور بھی بہت سے ( رفقاء) نے واقعات بیان کئے ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹا سا کوئی وعدہ کیا ہے اور پھر وہ بھولے نہیں۔ایک دفعہ ایک (رفیق) جو غالباً حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ہی تھے، سوئے ہوئے تھے اور ان کی آنکھ کھلی تو دیکھا چار پائی کے نیچے فرش پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے ہیں۔وہ گھبرا کر اٹھے کہ ہیں ! آپ یہاں لیٹے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں، گھبراؤ نہیں، میں تمہاری حفاظت کر رہا ہوں اپنے بچوں کے شور سے۔بچوں کو میں نے باہر بھگا دیا تھا اور کہا تھا خبر دار! جو ادھر آئے ، میں یہاں ہوں گا۔اس یقین پر کہ میں یہاں ہوں گا، وہ آپ کو تنگ نہیں کر رہے۔آپ نے کہا اگر میری یہ بات غلط ہوتی ، کوئی جھانک کے دیکھ لیتا کہ میں یہاں نہیں ہوں تو اس پر کیا بداثر پڑتا۔ایک تو آپ کی نیند خراب ہوتی ، دوسرا اس کی تربیت بگڑ جاتی۔