مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 664 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 664

664 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پس سب سے پہلے تو بچوں سے وعدہ کرو تو اس میں وعدہ خلافی نہ کرو۔جو بچوں سے وعدہ خلافی کرے گا وہ باہر بھی وعدہ خلافی کرے گا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بچے جو اپنے سب سے پیارے ہوں اور عزیز ہوں ان سے تو آدمی وعدہ خلافی کرتا رہے اور باہر کے وعدے پورے کرے ، یہ ناممکن ہے، فطرت انسانی کے خلاف ہے۔تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی یہ علامتیں بیان فرمائی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند شخص جانتے بوجھتے ہوئے منافقت کی راہ اپنے لئے پسند کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر جو کچھ فرمایا ہے میرا خیال ہے میں اس حصے کو پیچھے چھوڑ آیا ہوں لیکن اپنی یادداشت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا عمل اس بارے میں بیان کر دیتا ہوں۔بہت سے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایسے گزرے ہیں کہ ایک شخص جو بیرونی نظر سے ان کو دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ للہ کا کیسا نبی ہے جو اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں مبتلا رہا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جیب میں روڑے بھرے ہوئے تھے۔اب ملاں اور بد بخت لوگ ہنسیں گے اور قہقہے لگائیں گے کہ یہ نبی بنا ہوا ہے، جیب میں روڑے ہیں۔وہ اس لئے تھے کہ اپنے ایک بچے سے، جو روڑوں سے کھیلتا اور شور مچارہا تھا، آپ نے کہا کہ یہ روڑے مجھے دے دو اور باہر جا کر کھیلو۔جب واپس آؤ گے میں تمہیں دے دوں گا۔وہ روڑے جیب میں ڈال لئے تا کہ ان میں سے کوئی بھی ضائع نہ ہو۔جب وہ بچہ واپس آیا تو وہ روڑے اس کے سپر د کر دیئے۔اب دیکھنے میں ایک بہت چھوٹی بات ہے مگر چھوٹی باتوں ہی سے عظیم باتیں پیدا ہوا کرتی ہیں۔اگر کسی کو اتنا خیال ہے اپنے بچے سے سچا وعدہ کرنے کا کہ اس کے روڑے سنبھالتا پھرتا ہے تو اندازہ کریں کہ باہر کی دنیا میں اس کا کیا حال ہوگا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کی بیشمار دلیلیں ہیں مگر یہ ایک دلیل بھی ہوش مند کے لئے کافی ہونی چاہیے۔جو وعدوں کا اتنا سچا ہو وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں بیان کرنے اور دنیا سے وعدے کرنے میں کتنا سچا نہیں ہوگا۔پس اسی کو اپنا وطیرہ بنائیں اور اپنے بچوں کو خوامخواہ جھوٹے لارے نہ دیا اپنے گھر میں میں نے بچپن سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی تاکید رکھی۔ماؤں کی عادت ہوتی ہے میری بیگم مرحومہ بھی، بے خیالی میں لوگ سمجھتے نہیں کہ جھوٹ ہے، بے خیالی میں بچوں سے وعدے کر دیا کرتی تھیں کہ تمہیں یہ دے دوں گی ، فلاں چیز دے دوں گی اور جب مجھے پتہ چلتا میں وہ ضرور حاصل کر لیا کرتا تھا۔یہ بھی ایک سمجھانے کا طریقہ تھا۔بجائے اس کہ کے ان کو کہوں کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے، سختی