مشعل راہ جلد سوم — Page 662
662 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم طرح کھل کر ظاہر ہو جائے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُم کیونکہ سیدھی بات سے اصلاح اعمال کا بہت گہرا تعلق ہے۔ایک بات تم کرو، دوسری بات اللہ نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُم اگر سیدھی بات کو شیوہ بناؤ گے تو وہ ضرور تمہارے اعمال کی اصلاح فرمادے گا۔وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ اور تمہارے گناہ جو اس سے پہلے سرزد ہو گئے ان کو معاف فرما دے گا۔وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، پس اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی۔یعنی یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا ، اطاعت رسول کی توفیق ملتی چلی جائے گی اور جوں جوں تم اطاعت کرو گے ساتھ ساتھ تم نیکی میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے یہاں تک کہ اس کا کوئی منتہی نہیں سوائے اس کہ کہ جب تمہیں موت آئے گی تو تم ایک کامیابی کی حالت میں مررہے ہو گے ، بہت بڑی کامیابی تمہیں نصیب ہوگی۔ان آیات سے متعلق پہلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں جو میرے نزدیک ان آیات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔مسند احمد بن حنبل سے یہ حدیث لی گئی ہے۔عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں ابھی بچہ ہی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر پر تشریف لائے۔میں کھیلنے کودنے کے لئے گھر سے باہر جانے لگا۔میری والدہ نے کہا اے عبد اللہ جلد گھر چلے آنا۔میں تجھے کچھ دوں گی۔اس لالچ میں کہ مجھے کچھ ملے گا ان کا خیال تھا کہ یہ کھیل کود میں دل لگانے کی بجائے دماغ گھر کی طرف رکھے گا اور جتنی جلدی اس کو توفیق ملے گی واپس آجائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کھجور میں دینا چاہتی ہوں۔آپ نے فرمایا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو یہ تیرا جھوٹ شمار ہوگا۔(مسند احمد بن حنبل۔جلد نمبر۲۔صفحہ ۴۴۷۔مطبوعہ بیروت) قول سدید کا تجر بہ گھروں سے شروع ہونا چاہیے پس قول سدید کا تجر بہ گھروں سے شروع ہونا چاہیے۔تمام وہ اولا دیں جو رفتہ رفتہ بگڑ کر دور چلی جاتی ہیں بچپن میں ان سے قول سدید سے کام نہیں لیا جاتا۔بارہا میں نے ماؤں کو توجہ دلائی ہے اور اب پھر میں دوبارہ متوجہ کرتا ہوں ، باپ بھی مخاطب ہیں مگر بالعموم مائیں جن کا روز مرہ بچوں سے واسطہ ہوتا ہے اکثر وہ بچوں کو گلے سے اتارنے کے لئے کوئی جھوٹا وعدہ کر دیتی ہیں اور جب وہ پورا نہیں کرتیں تو یہ قول سدید کے خلاف ہے اور قول سدید کے نہ ہونے کے نتیجے میں اصلاح ہو ہی نہیں سکتی۔جب اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا