مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 650 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 650

650 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم لیکن اب میں آپ کو یہ بات آخر پر سمجھانا چاہتا ہوں کہ میں نے جہاں تک جائزہ لیا ہے امریکہ کی جماعت کو اپنی اولاد کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کیونکہ بہت سے چہرے تو میں نے دیکھ لئے ہیں اور ان کی آنکھوں نے جو پیغام دیاوہ سن لیا اور سمجھ لیا۔مگر ہر دفعہ بھی ملاقاتیں ممکن ہی نہیں ہوا کرتیں اور جماعت کا ایک بھاری حصہ ایسا رہ جاتا ہے جس کے ساتھ میں ملاقات نہیں کر سکا۔تو میں تو محض نمونے کے طور پر آپ کو بعض چہرے دکھا سکتا ہوں۔اس سے زیادہ مجھے کوئی توفیق نہیں ہے۔اس ضمن میں ایک اور بات میں امریکہ کی جماعت سے کہنا چاہتا تھا، وہ لمبی ملاقاتوں کی معذرت ہے۔اگر چہ میری خواہش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ احمدی دوستوں سے اور ان کے بچوں سے ملوں۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بعض دفعہ ان کی چند لھوں کی ملاقات بھی ان کی اولاد کے لئے ساری زندگی کا سرمایہ بن جایا کرتی ہے۔اسی ملاقات میں بعض لوگوں نے بہت پرانی اپنی بچپن کی تصویریں میرے ساتھ دکھائیں اور کہا کہ ہمارے بچے جو گودیوں میں ہیں یہ ان کا سرمایہ حیات ہے۔یہ ساتھ لئے پھرتے ہیں، اپنی البموں میں سجاتے ہیں اور کہتے ہیں ، اس طرح ہمیں گودی میں اٹھایا ہوا تھا حالانکہ اس وقت میں خلیفہ اسیح بھی نہیں تھا۔لیکن ان بچوں نے ان لمحات کی قدر کی اور میرے دینی تعلق کو پیش نظر رکھ کر ان تصویروں کو سنبھال کر رکھا اور جب میں دیکھتا ہوں تو بعض دفعہ پہچانا نہیں جاتا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔مگر میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ چند لمحوں کی ملاقات بھی بعض دفعہ ایک سرمایہ حیات بن جایا کرتی ہے۔مگر وہ لوگ جو ملاقات کی خاطر بعض دفعہ گھنٹوں بیٹھتے ہیں ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ان کی تکلیف سے زیادہ میرا دل تکلیف محسوس کرتا ہے۔مجھے بہت شرم آتی ہے اس بات سے کہ گھنٹوں انتظار کے بعد بے چارے آئے اور کھڑے کھڑے السلام علیکم، چاکلیٹ بچوں کے لئے لے لو، تصویر کھینچوا ؤ اور رخصت ہو جاؤ۔اب اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میرا دل سخت ہے۔میں ان کی تکلیف کو محسوس کرتا ہوں۔گھنٹوں جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں، ان کی تکلیف کا لمحہ لمحہ میرے دل پہ گزر رہی ہوتی ہے اور اس میں کوئی بھی شک نہیں، ذرہ بھی اس میں جھوٹ نہیں ہے۔مگر میں مجبور ہوں کہ جتنے بھی مل سکتے ہیں ان سے مل کر ان چند لمحوں میں کوئی ایسی بات کروں کہ ان کی زندگی کا سرمایہ بن سکے اور مجھے پتہ ہے کہ آئندہ جب میں گزر جاؤں گا تو یہی سرمایہ حیات ہے جو آپ کے بچوں کے کام آئے گا۔عمر بھر کا سرمایہ بن جائے گا انگلی نسلوں کے لئے ، ان کی صدیاں جو آنے والی ہیں ان سب کا یہ سرمایہ حیات بن جائے گا۔پس جو کچھ اس سفر کے دوران گزرا ہے یہ اس کی تشریح کر رہا ہوں۔اس کی روشنی میں آپ