مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 645

مشعل راه جلد سوم 645 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ جو بچوں کے لئے سب کچھ کرتے ہیں لیکن ڈانٹتے اس وقت ہیں جب وہ دنیا سے روگردانی کر رہے ہوں۔جب دین سے روگردانی کریں تو ہلکے منہ سے ان کو روکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ عزت سے پیش آؤ یعنی ان کی اصلاح کرنی ہو تو نرمی اور پیار سے گفتگو کرو اور اچھی تربیت کرو۔اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ایک اور حدیث ہے حضرت ایوب بن موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ، ترمذی ابواب البر سے لی گئی ہے۔حضرت ایوب اپنے والد اور پھر اپنے دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔اچھی تربیت کرے گا تو یہ سب سے اعلی تحفہ ہے جو دے سکتا ہے، نہ کہ اموال جمع کر کے ان کو یقین دلانا کہ میرے مرنے کے بعد تمہیں بہت دولت مل جائے گی۔اس کو تحفوں میں شمار ہی نہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔فرمایا بہترین تحفہ ہے جو باپ اپنی اولا دکو دے سکتا ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرے۔اب ملفوظات میں سے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔فرمایا ” ان کی پرورش ، یعنی بچوں کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے، نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے۔“ رحم کے حوالے سے کرے، اس سے کیا مراد ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا اے میرے اللہ ! میرے ماں باپ پر رحم فرما جس طرح انہوں نے میری تربیت کی تھی بچپن میں تو یہ رحم تربیت کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے۔اگر کوئی شخص اپنے بچوں پر رحم کرے گا تو لازمی اس رحم کے نتیجے میں اسے اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ کردار سکھائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی کمائی اور ورثے کو شمار ہی نہیں فرمایا۔فرمایا اس طرح رحم کرو جیسے تم خدا کے حضور یہ کہہ سکو کہ اے اللہ میرے ماں باپ پر بھی رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم فرمایا تھا۔اگر انہوں نے دین سے ہٹایا ہوتا تو یہ دعا ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ میرے ماں باپ پر اس طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم فرمایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے اولاد سے عزت کا سلوک اور نرمی کا سلوک کرو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ رحم کی توقع رکھتا ہے۔نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے“۔اپنا جانشین بنانے کے لئے جو تم ان سے حسن سلوک کرتے ہو بظاہر وہ ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔فرمایا بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کا لحاظ