مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 643

643 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ذلِكَ فَأُولئِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ جو بھی ایسا کرے گا ، وہ لوگ ہیں جو بہت گھاٹا کھانے والے ہوں گے۔تو قرآن کریم نے تو کوئی گنجائش نہیں چھوڑی بیچ نکلنے کی کہ انسان عذروں کی تلاش کر کے کہیں نہ کہیں اپنا منہ چھپا سکے۔قتل اولاد قرآن کریم نے انسانی فطرت کے ہر پہلو کو اجاگر کر دیا ہے، مضمون کے ہر حصے کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ إِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيراً O (سورۃ بنی اسرائیل: 32) اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔اب یہ بہت غور طلب آیت ہے اس پہلو سے کہ عرب اپنی اولا د کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہیں کیا کرتے تھے۔اس زمانے میں یہ دستور نہیں تھا۔اگر قتل کرتے تھے تو لڑکیوں کو قتل کیا کرتے تھے اور وہ بے عزتی کے ڈر سے قتل کیا کرتے تھے۔مگر سارے عرب میں کہیں آپ کو یہ رواج نہیں دکھائی دے گا کہ مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کوقتل کرتے ہوں۔یہ دراصل آئندہ زمانے کی ایک پیشگوئی ہے جسے ہم پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔بہت سے ایسے خاندان میں نے دیکھتے ہیں جو باوجود اس کے کہ اپنی اولاد کی عظمت چاہتے ہیں، اس کی بڑائی چاہتے ہیں مگر زیادہ بچے نہیں چاہتے تا کہ جائیدادزیادہ لوگوں میں تقسیم نہ ہو اور تھوڑے رہیں اور پھر صاحب دولت ہوں۔یہ وہ فطرت انسانی ہے جس کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے۔وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ولاد بننے کے بعد ان کو قتل نہیں کیا جاتا، احتیاطیں برتی جاتی ہیں جیسے آج کل فیملی پلانگ میں خَشْيَةَ اخلاق ایک ضروری پہلو ہے۔تمام دنیا میں یہ تو میں غریبوں کو یہ نصیحت کرتی ہیں کہ اولا د کم پیدا کرو تا کہ تمہاری غربت دور ہو اور یہ جھوٹ ہے کیونکہ غریبوں کی اولا دزیادہ ہو تو غربت دور ہوا کرتی ہے۔کہیں دنیا میں غریبوں کی اولا دان پر بوجھ نہیں بنا کرتی۔وہ تو اپنے ماں باپ کا سہارا بنتی ہے۔تو فرمایا لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ویسے ہی بے وقوفی ہے۔غربت کے ڈر سے اولا دیں قتل کرو گے تو اور بھی غریب ہو جاؤ گے اور جیسا کہ میں مثال دینے لگا تھا چین کی مثال ہے۔غربت کے ڈر سے قانون بنائے، اولاد میں قتل کرتے لیکن اس کا کوئی بھی فائدہ چینی اقتصادیات کو نہیں پہنچا۔یہ ایک تفصیلی