مشعل راہ جلد سوم — Page 642
642 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم سے مراد وہ سخت دل لوگ ہیں جن پر کوئی نصیحت اثر نہیں کیا کرتی۔وہ پتھر جو خدا کے تصور کے ساتھ پارہ پارہ نہیں ہوتے ، جبکہ بعض پتھر ایسے بھی ہیں جن کو قرآن کریم نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کے، ریزہ ریزہ ہو کے گر جاتے ہیں۔مگر یہ پتھر وہ ہیں جن پر اللہ کی آیات پڑھی جائیں تو ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ان کے لئے فرمایا عَلَيْهَا مَلَئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ (سورۃ التحریم: 7) ایسی جہنم پر ایسے خدا کے فرشتے مقرر ہوں گے جو بہت شدید ہوں گے یعنی ان کی پکڑ سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔غِلاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللہ کہ وہ غلاظ بھی ہیں اور شداد بھی ہیں۔غلیظ اس چیز کو کہتے ہیں جو آپس میں اتنی سختی سے جڑی ہوئی ہو کہ اس کو پار کرنے کی کوئی صورت ہی نہ ہو۔تو ان کی پکڑ بہت سخت ہوگی اور کسی کو بچنے کی راہ نہیں ہوگی اور شداد ہوں گے اس لئے کہ لا يَعْصُوْنَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُم وہ شدید ہوں گے ، اپنے دل کی سختی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کو بنایا ایسا گیا ہے کہ اللہ نے جو ان کو حکم دیا وہ انہوں نے ضرور پورا کرنا ہے۔اس کو پورا کئے بغیر ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ اس سے ہٹ سکیں کسی اور طرف رخ کر سکیں۔جیسا کہ فرمایا وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ وہ وہی کرتے ہیں جس کا حکم دیا جاتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ اے وہ لوگو جنہوں نے کفر کیا آج کے دن کوئی عذر پیش نہ کرو کیونکہ عذر کا وقت گزر چکا ہے۔إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (التحریم: 8) یقینا تمہیں اسی چیز کی جزاء دی جارہی ہے جو تم کیا کرتے تھے۔اس کے بعد ایک اور سورۃ المنافقون کی یہ آیت آپ کے لئے قابل توجہ ہے۔يَا يُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَسِرُوْنَ (سورة المنافقون: 10) اے مومنو! تمہیں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔اکثر خدا کے ذکر سے غافل ہونے والے وہ لوگ ہیں جن کو اپنی اولاد کی اور مال کی محبت خدا سے غافل کر دیا کرتی ہے اور جن کا نقشہ میں پہلے کھینچ چکا ہوں بعینہ وہی ہیں۔مال کی محبت اور اولاد کی محبت ایسا چڑھ جاتی ہے دماغ پر کہ کسی اور چیز کی ہوش نہیں رہنے دیتی۔ایسے لوگ خدا کا ذکر کر ہی نہیں سکتے۔ایسے لوگ فرضی طور پر سرسری طور پر خدا کا ذکر کریں بھی تو وہ ذکر دل میں ڈوبتا نہیں ہے اور دلوں کی کیفیت کو تبدیل نہیں کرتا۔وَ مَنْ يَفْعَلْ