مشعل راہ جلد سوم — Page 640
640 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تھے اور اصلی کردار والے مزاحیہ لوگ اس میں پیش ہوا کرتے تھے۔اب تو ساری باتیں فرضی گھڑی ہوتی ہیں۔کمپیوٹر کے ذریعے جو چاہیں بنا لیں اور اس کا ہماری اگلی نسلوں پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگلی نسلیں جو عادی ہو چکتی ہیں کمپیوٹر کی کھیلیں دیکھنے کی، ان کے دماغ میں کسی اور چیز کی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی۔اگر ایسے بچوں کے ماں باپ ان کو ایم ٹی اے پر ساتھ بٹھا بھی لیں گے تو وہ اوپری اوپری چیز میں دکھائی دیں گی ان کو۔دل اسی میں اٹکا رہتا ہے کہ وہ جو فرضی کھیلیں ہیں آسمانی مخلوق جن کا کوئی ذکر ہی ، کوئی وجود ہی نہیں، اچانک کمپیوٹر کے ذریعے اٹھ کھڑے ہونے والے جنات ان سب باتوں میں دل اٹکا رہتا ہے اور وہ عمر جو Impressionmable، عمر ہے جس میں گہرے تاثرات قائم ہوتے ، ہیں اس عمر میں ان کے گہرے تاثرات ایک فرضی کہانی کے سوا اور کوئی نہیں رہتے۔ساری دنیا ایک کھیل تماشہ ہے۔یہ اطلاق کہ سب دنیا کھیل تماشہ ہے، یہ پیغام ہے جو امریکہ کے ذرائع ابلاغ آپ سب کو، آپ کے سب بچوں کو دے رہے ہیں اور اپنا کیا حال ہو گیا ہے، اس کے نتیجے میں سب اکھڑے ہوئے ہیں۔ملاقات کے دوران یہ بھی مجھے تجربہ ہوا کہ بہت سے امریکن احمدی مجھے ملنے کے لئے آئے اور جب ان سے گفتگو کی تو بظاہر خوشکن لیکن ہر ایک کا دل دکھی تھا۔ان کی کوئی عائلی زندگی نہیں تھی تھی تو ٹوٹ چکی تھی۔اعتبار اٹھ چکے ہیں۔نہ خاوند کو بیوی پر اعتبار، نہ بیوی کو خاوند پر اعتبار اور ایک فرضی تصور ، اطمینان کے تصور میں وہ دوڑے چلے جارہے ہیں۔کچھ پتہ نہیں کہ کیا انجام ہوگا۔بہت بڑی بڑی عمر کے آدمی بھی دیکھے جو شادی سے محروم تھے۔کیونکہ ان کی ابتدائی زندگی احمدیت کے قبول کرنے سے پہلے عیش وعشرت کی تلاش میں دوڑنے میں خرچ ہوگئی اور اب اس عمر کو آپہنچے ہیں کہ کوئی ان سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہے۔تو بہت سی ایسی مصیبتیں ہیں جو امریکن زندگی کی پیداوار ہیں اور اس پہلو سے اس آیت کا اطلاق ان پر ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے یہ جو زینت ہے یہ آخر تفاخر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہ لہو ولعب جو ہے یہ زینت میں اور زینت تفاخر میں بدل جاتی ہے۔آخری ماحصل یہ رہ گیا کہ میرے پاس اچھی کوٹھیاں ہیں ، اچھے محلات ہیں، اچھی دنیا کی زینت کے سامان ہیں۔یہاں تک تو کچھ قابل قبول تھا مگر جب یہ تفاخر بن جائے ، ایک دوسرے پر فخر کا ذریعہ بن جائے تو وہاں سے پھر خرابی بہت گہری ہو جاتی ہے وَتَكَانُرٌ فِي الْأَمْوَالِ اور دوڑ مال بڑھانے کی دوڑ ہو جائے۔ہر شخص کی کوشش ہو کہ میر امال بڑھے اور دوسرے سے زیادہ ہوتا کہ مال کی برتری کا مزہ لوٹوں۔والاولاد اور اولاد کے بڑھنے کا بھی ان معنوں میں کہ اولاد کی طاقت بڑھے، ان معنوں میں اولاد کے بڑھنے کا بھی ایک Craze جس کو کہتے