مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 634

مشعل راه جلد سوم 634 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سخن کز دل بروں آید لا جرم بر دل یعنی وہ کلام جو دل سے نکل رہا ہو وہ بلاشبہ دل میں جا کر بیٹھ جایا کرتا ہے، دل سے نکلی بات دل پر اثر کرتی ہے۔فرماتے ہیں:۔انہوں نے ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا۔ایک صداقت اور حق کو قبول کیا تھا اور پھر سچے دل سے قبول کیا تھا اس میں کوئی تکلف اور نمائش نہ تھی۔ان کا صدق ہی ان کی کامیابیوں کا ذریعہ ٹھہرا۔یہ سچی بات ہے کہ صادق اپنے صدق کی تلوار ہی سے کام لیتا ہے“۔اس کو سچائی کی تلوار کے سواکسی تلوار کی ضرورت نہیں ہے۔ہوا تھا۔" آپ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل وصورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا اب جس کو ہم نور سمجھ رہے ہیں وہ دکھائی تو نور کی طرح دیتا ہے لیکن ہے کیا چیز؟ وہ تو کل علی اللہ کا نور ہے جو شخص بات کرتے وقت جانتا ہو کہ خدا میرے ساتھ ہے اس کو جیسا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو نور عطا ہوا تھا، حصہ رسدی تو کل کا نور ماتا ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نور کو جسمانی ظاہر کرنے والے لوگوں کو کیا پتہ کہ نور کیا چیز ہوتی ہے۔جسمانی نور تو دنیا میں بظاہر بڑے بڑے خوبصورت چہرے والوں کے چہروں پر دکھائی دینا چاہیے مگر اس نور میں کوئی حقیقت نہیں۔ایک بہت بڑا فرق ہے جسمانی حسن کے نور میں اور اس نور میں جو اللہ عطا فرماتا ہے اور یہ فرق دیکھنا ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا چہرہ دیکھیں۔” آپ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل وصورت جس پر خدا پر بھروسہ کرنے کا نور چڑھا ہوا تھا۔اب کوئی ادنی سی عقل رکھنے والا انسان بھی اس عبارت کو پڑھ کر ایسے شخص کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔بہت ہی جاہل اور کمینہ دشمن ہوگا، کوئی دہر یہ خدا کے غضب کا مارا ہوا جسکو ان باتوں میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت دکھائی نہ دے۔کون کہہ سکتا ہے یہ الفاظ، جس کا دل گہرائی کے ساتھ اس مضمون میں ڈوبا