مشعل راہ جلد سوم — Page 621
621 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم پہنچاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے ہم یہ حکم پہنچا رہے ہیں اور اس میں کوئی استثناء نہیں۔ہمیشہ فرشتے جو بات پہنچاتے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اس وضاحت کے ساتھ پہنچاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات پر مامور فرمایا ہے کہ ہم آپ تک یہ پیغام پہنچا دیں۔بعینہ یہی کام معتمد کا ہے۔جب بھی وہ کسی مجلس کو یا کسی فرد واحد کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم نے یہ کام کرنا ہے اگر وہ یہ حوالہ نہیں دیتا کہ میرے افسر بالا کی طرف سے میں اس بات پر مامور ہوں کہ تم تک یہ حکم پہنچاؤں تو اس کے حکم کی کوڑی کی بھی حیثیت نہیں۔جماعتیں یا مجالس اس کو کلیتہ نظر انداز کر سکتی ہیں کیونکہ وہ معتمد تو ہے لیکن ذوالا مر نہیں۔اگر کسی ذوالا مر کا پیغام اس نے پہنچانا ہے تو اس کو لازم ہے کہ وضاحت کرے کہ یہ حکم میر انہیں ، میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ جس کے تابع ہوں اس نے یہ حکم مجھے آپ تک پہنچانے کے لئے مامور کیا ہے۔اگر اس نظام کو جو ساری کائنات کا نظام ہے اور اسی طرح پر جاری و ساری ہے جماعت احمد یہ اچھی طرح ذہن نشین کرلے تو کسی معتمد کے لئے اس میں سبکی کا بھی کوئی سوال نہیں کہ میری سبکی ہو گئی ، میں تو حکم دے ہی نہیں سکتا۔سارے فرشتوں کی سیکی ہوگی تو اس کی سبکی ہوگی۔جتنے خدا کے فرشتے ہیں وہ معتمد ہی ہیں۔پس اپنی ذات میں مگن ہوا اور شکر کرو اور خدا کا جس حد تک احسان کا تصور باندھو اتنا ہی تمہارے لئے بہتر ہے۔اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں اس قابل سمجھا، تمہیں ایک ایسا مقام عطا فرمایا جس میں کامل یقین ہے کہ تم اس مقام سے سرمو بھی فرق نہیں کرتے۔اتنا بڑا اعزاز اور اس کو انسان سمجھے کہ میری سیکی ہوگئی ہے یہ تو بہت ہی بے وقوفی ہوگی۔ایسا شخص جو اس کو کی سمجھتا ہے وہ اس لائق ہی نہیں ہے کہ اسے معتمد بنایا جائے۔اب میں قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ان اقتباسات سے معاملہ بالکل کھل جاتا ہے اور وہی مضمون حیرت انگیز طور پر ساری کائنات میں جاری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب میں نے اس آیت کے اس پہلو سے متعلق راہنمائی چاہی، یعنی ان معنوں میں کہ آپ کی متعلقہ تحریرات کا مطالعہ کیا ، مجھے یقین تھا کہ انتہائی تفصیل کے ساتھ اور باریکی کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہوگی، میں دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ تمام نظام جسم کو بھی آپ زیر بحث لائے ہیں، دنیاوی طاقتوں اور سیاسی طاقتوں کے جو اولوا الامر ہیں ان کو بھی زیر بحث لائے ہیں، دینی ذوالا مر کو بھی زیر بحث لائے ہیں، فرشتوں کو بھی اور انسانوں کو بھی اور ان کے متوازی کردار تمام زیر بحث لاکر ایک پہلو بھی