مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 58

مشعل راه جلد سوم 58 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ماں سے بچہ مانگتا ہے اور ماں عطا کرتی ہے تو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔بچہ کی محبت کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے کہ جب ماں اس پر رحم کرتی ہے، اس کی باتیں مانتی ہے تو اس سے محبت پیدا ہو جاتی ہے اور ماں کی محبت اس طرح بڑھتی ہے کہ اگر وہ نہ دے اور بچہ پھر بھی خوش رہے اور راضی رہے اور اس کے چہرہ پر کوئی غصہ نہ آئے۔کوئی نفرت پیدا نہ ہو۔کوئی انتقام کے آثار آنکھوں میں نہ آئیں (ایسے بھی بدقسمت بچے ہوتے ہیں جو اس طرح ماں سے سلوک کرتے ہیں ) تو ایسا بچہ جو ماں کے نہ دینے پر بھی راضی ہو جائے اس سے مائیں بے اختیار محبت کرنے لگ جاتی ہیں۔پس دوطرفہ محبت کے سلسلہ میں، یک طرفہ نہیں آپ اپنے رب سے اس طرح محبت کرنا سیکھیں کہ جب اس سے مانگیں اور وہ عطا فرمادے تو اس وقت بھی اس کے حضور جھک جایا کریں اور بچھ جایا کریں۔جب مانگیں اور نہ عطا کرے تو اس لئے خوش ہوا کریں کہ اس کے نتیجہ میں خدا اور بھی آپ سے محبت کرے گا اور تب بھی اس کا شکر ادا کیا کریں۔تب بھی اس سے راضی رہا کریں تا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا پیار آپ سے بڑھے۔غرض دوطرفہ سلسلے ہوتے ہیں محبت کے اور یہ دونوں طرح بڑھنے چاہئیں۔اس لئے خدا کبھی عطا کر دیتا ہے۔کبھی نہیں بھی کرتا۔وہ دیکھتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے پھر کیا سلوک کرتا ہے۔وفا کے نتیجہ میں محبت بڑھتی ہے۔بے وفائی سے محبت کو نقصان پہنچتا ہے۔وفا ہے جو سیکھنی چاہیے۔یعنی ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہنا۔وہ محبت کا اظہار کرے تب بھی راضی رہیں۔اگر وہ کسی بچہ سے خدا نخواستہ ناراضگی یا بے اعتنائی کا سلوک فرمائے اور بچہ محسوس کرے کہ اس کی دعائیں قبول نہیں ہور ہیں اس پر بھی وہ راضی رہنا سیکھے اور نظریں جھکائے رکھے اور دل میں اپنے رب کریم کے لئے ادب پیدا کرے۔یہ ہے آپ کی محبت کا آغاز۔پھر جب آپ بڑے ہوں گے تو یہ سلسلے پھیلنے شروع ہو جائیں گے۔پھر ایک ایسی کیفیت بھی آسکتی ہے کہ جس طرح مختلف دریا پہلے آہستہ آہستہ معمولی حالت میں چلتے ہیں اور پھیلتے ہوئے سمندر میں داخل ہو جاتے ہیں۔پھر ان کا دوسرا کنارہ نظر نہیں آتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت جو ایک چھوٹے سے چشمے کی طرح آپ کے دل سے پھوٹے گی ، اگر آپ اس سے وفا کریں گے تو وہ بڑھنی شروع ہوگی۔پھیلنی شروع ہوگی یہاں تک کہ آپ کی ساری زندگی پر محیط ہو جائے گی۔آپ ایسے سمندر میں داخل ہو جائیں گے جس کا حقیقتاً کوئی کنارہ نہیں ہوگا۔