مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 609

609 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کیسے ہوگی؟ فرمایا نوافل پڑھنے والے لوگ اس خبر سے اس حساب سے خوش ہو جائیں کہ اللہ تعالیٰ اگر ان کے فرائض میں کچھ کمی ہوئی تو ان کو نوافل سے لے کر فرائض میں ڈال دے گا۔حالانکہ عموماً نوافل الگ ہیں اور فرائض الگ ہیں۔مگر یہ آسان حساب کی ایک صورت ہے۔فرمایا دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں۔یہ جو لفظ ہے دیکھو میرے بندے کے کچھ نوافل بھی ہیں، یہ بہت پیار کا لفظ ہے۔فرشتوں کو گویا کہا جا رہا ہے۔میرا بندہ ہے میں اس کو آسانی سے جہنم میں ڈالنے والا نہیں۔دیکھو اس کے نوافل بھی تو ہوں گے۔فرمایا اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی ان نوافل کے ذریعے پوری کر دی جائے گی۔اسی طرح اس کے باقی اعمال کا معائنہ ہوگا اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔پس مجلس خدام الاحمدیہ کے ذمہ جو میں نے نماز سکھانے اور نماز پڑھانے کی تلقین کی تھی اس میں یہ حدیث ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔اس طرح نماز سکھائیں کہ اس کے ساتھ نوافل کی طرف بھی خدام کی توجہ ہو اور اطفال کی توجہ ہو اور جو کچھ بھی وہ نماز میں پڑھیں وہ واقعہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے تعلق رکھنے والی باتیں ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو ان الفاظ میں پیش فرما ر ہے ہیں۔یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقررفرمائے ہیں۔ور نہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگا رہنا چاہیے۔“ ( وَلَذِكْرُ الله اکبر کی تشریح ہے۔جہاں نماز کا ذکر فرمایا قرآن کریم نے ساتھ ہی فرمایا وَ لَذِكْرُ الله اكبر - اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز سے بہتر کوئی اور ذکر ہے جو نماز سے بھی بڑھ کر ہے۔فرمایا یہ پانچ وقت تو خدا تعالیٰ نے بطور نمونہ کے مقررفرمائے ہیں ورنہ خدا کی یاد میں تو ہر وقت دل کو لگارہنا چاہیے اور کبھی کسی وقت بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔اٹھتے بیٹھتے ، چلتے ، پھرتے ہر وقت اسی کی یاد میں غرق ہونا بھی ایک ایسی صفت ہے کہ انسان اس سے انسان کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اسی طرح کی امید اور بھروسہ کرنے کا حق رکھ سکتا ہے۔اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے تو اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔(بغیر چلے تو کسی منزل پر پہنچ نہیں سکتا ) جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی ، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا“۔( یہ سادہ سے عام تجربے والی بات ہے جو سب پر ظاہر ہونی چاہیے کہ منزل جتنی دور ہو اتنا ہی تیزی کی ضرورت ہے کوشش اور محنت کی ضرورت ہے۔سوخدا تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔“ (سفر لمبا ہو اور انسان ایک تیز رفتار سواری سے اتر کر پیدل چلنے لگے تو وہ بے چارہ کب منزل تک پہنچے گا۔) ”اصل میں مسلمانوں نے