مشعل راہ جلد سوم — Page 582
582 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم یہ عبادت کا فلسفہ سکھانے کے لئے ابتدائی چیزیں ہیں۔اس لئے بچے سے کہا جائے کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہو، اگر تمہیں ساری نماز کا ترجمہ نہیں بھی آتا تو اس دن کی اچھی باتوں پر اللہ کا شکریہ ادا کر لیا کرو کہ اے اللہ ! تو نے آج میرے لئے یہ کیا، مجھے بہت مزہ آیا۔میں نے آج ٹھنڈا پانی پیا، میں نے کوکا کولا پیا اور میں نے فلاں Ham Burger کھایا جو بھی کھایا کرتے ہیں لوگ یہاں ، تو اس وقت سوچا کرو کہ اصل دینے والا کون ہے۔اگر اس طرح بعض لذتوں کا تعلق دینے والے ہاتھ کے ساتھ قائم کر دیا جائے تو یہ عبادت کا پہلا فلسفہ ہے جو بچے کے دل میں جانشین ہوگا اور پھر اسے ایک اور ہاتھ ہے جو اٹھا لے گا جس کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بچہ جب پیار سے اپنے اللہ سے کوئی بات کرتا ہے تو میرا تجربہ ہے کہ اللہ ضرور اس کا جواب دیتا ہے اور ایک بچے کے دل میں اگر خدا کے لئے کوئی شکر پیدا ہو تو اللہ اس کے دس شکر ادا کرتا ہے اور ان معنوں میں وہ شکور ہے۔اب حیرت کی بات ہے کہ اللہ تو ہر احسان کرنے والا اور ایسا وجود ہے جس کو کسی کے شکر کی ضرورت کوئی نہیں۔کوئی اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن وہ شکریہ کس بات کا ادا کرتا ہے،شکر کا شکر یہ ادا کرتا ہے اور یہ چیز اس نے انسانی فطرت میں بھی رکھ دی ہے۔پس بچوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ دیکھو ایک بچہ تم سے کوئی اچھا سلوک کرے، رستہ چلنے والا تمہیں ایک لفٹ ہی دے دیتا ہے تو کتنا تمہارے دل میں شکر یہ اٹھتا ہے اور جب تم شکریہ کرتے ہو تو وہ بھی آگے تمہارے شکریے کا شکریہ ادا کرنے لگ جاتا ہے۔کہتا ہے چھوٹی سی بات تھی کچھ بھی نہیں تھا، آپ نے تو بہت ہی محسوس کیا ہے۔تو شکر کرنے والا حقیقت میں ایک بات کا شکر ادا کر رہا ہوتا ہے اور جو اس کے جواب میں شکر یہ ادا کرتا ہے وہ صرف شکر کا شکر یہ ادا کرتا ہے۔تو شکر کو طاقت دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نظام قائم فرمایا ہے کہ بندہ ایک شکر کرتا ہے، اللہ دس شکر کرتا ہے اور ہر شکر کے جواب میں اس پر اور زیادہ احسان فرماتا ہے۔اس طرح بچے کو اگر آپ سمجھا ئیں تو وہ خود دیکھے گا ، اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ واقعہ ایسا ہوتا ہے، واقعہ اللہ تعالیٰ ہمارے ادنی ادنی شکر کو قبول فرماتے ہوئے اتنا شکر ادا کرتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایسے موقع پر لازم ہے کہ روح پچھلے خدا کے حضور اور ایسے موقع پر لازم ہے کہ روح خدا کے حضور سجدہ ریز ہو اور یہ باتیں وہ ہیں جو روز مرہ کے تجربے میں آئی ہوئی باتیں ہیں۔کوئی فلسفہ ایسا نہیں جو آسمان پر اڑ رہا ہے۔یہ فلسفہ وہ ہے جو روزمرہ زندگی میں انسانی تعلقات میں بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور بندے اور خدا کے تعلق میں بھی یہی دکھائی دیتا ہے۔تو محض یہ کہ دینا کہ جی پانچ وقت نماز میں ضروری ہیں، تم نے لا زما پڑھنی ہیں ، یہ اور بات ہے اور ان نمازوں سے