مشعل راہ جلد سوم — Page 569
مشعل راه جلد سوم 569 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ایسے بچوں کو جو دس سے بارہ سال کی عمر میں ہوں سوئیاں بھی پڑتی ہیں اور کئی قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں۔بلکہ وہاں تو اس سے پہلے بھی بعض دفعہ سزا شروع ہو جاتی ہے۔تو پہلے سزا کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ، جھوٹ ہے۔اس سے باز رہیں اور اس کے بعد جو سزا ہے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی سرزنش قرار دیا ہے۔ہر گز کسی قسم کی تختی ایسی نہیں جس سے بچے کے بدن پر ایسی ضرب پڑے جس سے اس کو نقصان پہنچ سکے اور یہ وہ پہلو ہے جس کو بچپن کی تربیت میں آپ کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔یعنی سات سال کی عمر تک پیار اور محبت سے اپنے ساتھ دل لگائیں، ان کی اچھی باتوں کو اچھالیں۔کیونکہ اس عمر میں بچے ضرور اپنی تعریف کو خوشی سے قبول کرتے ہیں اور جس بات کی تعریف کی جائے اس پر جم جایا کرتے ہیں۔جس چیز سے نفرت دلائی جائے اس سے متنفر ہو جایا کرتے ہیں۔تو آئندہ آنے والے جو خطرات ہیں ان کا بچپن ہی میں تصور باندھیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ماحول کی بدی کو ان کے سامنے اچھال کر پیش کریں۔ان کو بتائیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔جب وہ سات سال سے اوپر دس سال تک پہنچیں تو پھر خصوصیت سے عبادتوں کی طرف متوجہ کرنا بھی آپ کی تربیت کا ایک حصہ بن جائے گا۔اس کے بعد نا پسندیدگی کا اظہار، ان سے منہ موڑنا اگر وہ بری حرکت کریں، نمازیں نہ پڑھیں، تو بعض دفعہ دائنا اور سمجھانا یہ چیزیں بارہ سال کی عمر تک جائز ہیں اور بارہ سال کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر اب تمہارا ان پر سختی کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔جو کچھ تم نے کرنا تھا وہ وقت گزر گیا ہے۔اب دیکھیں اس پہلو سے مغربی تہذیب اور ( دین حق) میں کتنا نمایاں فرق ہے۔مغربی تہذیب میں مختلف سال مقرر کر دیئے جاتے ہیں۔مثلاً اٹھارہ سال، اکیس سال یا سولہ سال، اور سالوں کا بعض جرائم سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔آج کل جو ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں یہ تعین کیا جارہا ہے کہ سولہ سال کی عمر تک کسی لڑکے کو کس جرم کی کتنی سزاملنی چاہیے، اٹھارہ سال تک کسی جرم کی کتنی سزاملنی چاہیے اور اکیس سال کی عمر میں جا کر پھر وہ کلیہ ہر سزا کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔( دین حق) نے بارہ سال اس لئے مقرر کئے ہیں کہ یہ بلوغت کا آغاز ہے اور بارہ سال میں بچہ اتنی پہنی پختگی اختیار کر جاتا ہے کہ اپنے روزمرہ کے معاملات میں خود فیصلہ کر سکے۔پس ( دین حق ) کی بلوغت کا آغاز دنیا والوں کی بلوغت سے بہت پہلے ہوتا ہے اور یہ بہت ضروری بات ہے۔کیونکہ اگر بارہ سال تک بچہ اپنے سیاہ سفید کو دیکھ نہ سکتا ہو تو پھر اٹھارہ سال تک بھی نہیں دیکھے گا بلکہ اپنی بد عادتوں میں اتنا پختہ ہو جائے گا۔جب وہ اٹھارہ سال کی عمر سے گزر کر سوسائٹی میں جاتا ہے تو پھر