مشعل راہ جلد سوم — Page 568
568 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اس وقت کی تربیت ایسی ہے جو ہمیشہ کے لئے آئندہ زندگی کی بنیادیں قائم کرتی ہے۔اس بات کو بھلانے سے بہت سے لوگ نقصان اٹھا جاتے ہیں۔بچوں سے ہر قسم کی پیار کی باتیں تو ہوتی ہیں، ان کی خواہشات کا خیال رکھا جاتا ہے۔مگر بچپن سے ان کو نیکی پر قائم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔اس لئے سب سے اہم بات اس ماحول میں جیسا کہ دوسرے ماحول میں بھی بہت ہی اہم ہے لیکن امریکہ میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ بچوں سے ایسی باتیں کریں جو اللہ اور رسول اور نیک لوگوں کی محبت پیدا کرنے والی باتیں ہوں اور ان کو نیکی کی اقدار سمجھائیں اور اس کے لئے گھر میں مختلف قسم کے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں۔جب ایک بچہ اچھی بات کرتا ہے تو ماں باپ کا فرض ہے کہ اس بات کو بڑی اہمیت دیں اور اس بچے کی اس بات کا ذکر چلائیں، کیونکہ وہ بچہ اچھی بات پر مثلاً کسی موقع پر وہ جھوٹ بول سکتا تھا، اس نے نہیں بولا اور سچ بول کر بظاہر نقصان اٹھایا ہے اگر آپ اس کی باتیں آنے والوں میں ذکر کیا کریں اور سوسائٹی میں، اپنے گھر میں، گھر سے باہر بچے کو اس طرح پیش کریں کہ دیکھو اس کے دل میں شروع ہی سے نیکی ہے تو ایسا بچہ اس بات کو کبھی بھول نہیں سکتا۔ناممکن ہے کہ اس کے دل سے اس ماحول میں نیکی کی اہمیت کا اثر مٹ جائے۔دوسرے جب وہ کوئی بری بات کرتا ہے تو اسے سمجھانا اس طریق پر کہ وہ سمجھ جائے اور اسے محسوس ہو کہ میں ایک برابر کی چیز ہوں، میں بھی ایک عقل رکھنے والا وجود ہوں جو کچھ میں سوچتا ہوں، ماں باپ کی سوچ اس سوچ پر اثر انداز ہو رہی ہے نہ کہ اس کا ہماری سوچ پر حکم چل رہا ہے۔پس تحکم سے احتراز لازم ہے اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے قیام کے سلسلے میں شروع میں بچپن میں بچوں پر تحکم کی اجازت نہیں دی۔سات سال سے پہلے تو کسی حکم کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سات سال سے دس سال تک ایسی نصیحت جس کے نتیجے میں بچے نمازوں کی طرف متوجہ ہوں اور بار باران کو نمازوں کی عادت ڈالنے کی طرف ماں باپ کو توجہ دلانا، یہ تو ہمیں ملتا ہے۔لیکن بچوں کو اس پر سزا کوئی نہیں ہے کہ وہ سات سال سے دس سال کی عمر میں نمازوں سے منہ موڑتے ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سات سال سے دس سال تک سزا دینے کا کہیں ارشاد نہیں فرمایا۔تین سال مسلسل ماں باپ کو نصیحت کے ذریعے اثر انداز ہونا ہے۔ایسی باتیں کہنی ہیں جو ان کے دل اور دماغ کو ( دین حق ) کی طرف پھیرنے والی ہوں اور دل کے اطمینان سے وہ ( دین حق) کی طرف مائل ہوں اور دس سال تک جب وہ اس عمر کو پہنچیں جہاں صرف گھر ہی میں نہیں باہر بھی ایسے بچوں کو کچھ نہ کچھ مزا ضرور دی جاتی ہے۔پرانے زمانے میں تو سکول میں