مشعل راہ جلد سوم — Page 554
مشعل راه جلد سوم 554 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ کو ایک ایسے ہی جتھے نے پکڑ لیا اور بہت مارا اور بہت ذلیل کیا لیکن ہر دفعہ وہ سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھتے جاتے تھے۔کہتے اللہ کی شان دیکھو مجھے خدا نے کیسا مرتبہ دیا۔مارنے والے اور بظاہر ذلیل کرنے والے حیران ہوئے اور ایک شخص نے گوبر وہاں سے اٹھایا اور ان کے منہ پر ملا اور ان کی آنکھوں میں گیا ان کے ناک میں گھسا ان کے منہ کے اندر چلا گیا اور وہ سبحان اللہ پڑھتے رہے کہ واہ واہ! اللہ کی کیا شان ہے۔مجھ جیسے بر ہانے کو اٹھا کر کن لوگوں سے ملا دیا۔کسی پوچھنے والے نے ان سے پوچھا کہ یہ تم کیا باتیں کر رہے ہو یہ تو پاگلوں والی باتیں تھیں۔انہوں نے کہا یہ پاگلوں والی باتیں نہیں۔یہی تو تھیں جوحق کی باتیں ہیں جو سچائی کی باتیں ہیں۔ایک پیشگوئی قرآن کریم نے فرمائی تھی تیرہ سو سال پہلے کہ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخرین میں ظاہر ہوں گے جب ظاہر ہوں گے تو آخرین کو پہلوں سے ملا دیں گے۔میں جب پڑھا کرتا تھا تو سوچا کرتا تھا کہ کہاں وہ زمانے تیرہ صدیاں حائل ہوگئیں بیچ میں۔کہاں عرب کے لوگ کہاں پنجاب کے ڈھنگے کہلانے والے باشندے جن کو بعض باہر کے لوگ ہندوستان کے بیل، گائے بھینسیں قرار دیا کرتے تھے۔کہاں ہم لوگ کہاں وہ لوگ مگر دیکھو! مرزا غلام احمد آف قادیان کو دیکھو ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی غلامی کی کہ آپ کی ذات میں محمد مصطفیٰ دوبارہ ظاہر ہوئے اور قرآن کی اس پیشگوئی کو کس شان سے پورا کر دیا وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة : 4) کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب دوبارہ آئیں گے تو ان کا دوبارہ آنا ظاہری طور پر چاند سورج کی طرح چمکے گا۔دنیا دیکھ لے گی کہ یہ وہی ہے جو آیا ہے۔کیونکہ اس کے ماننے والوں پر جو جو ظلم وستم اس کے زمانے میں ہوئے تھے وہ دوبارہ اس شبیہ کی صورت میں جو شبیہ آنحضرت کے آنے کو دوبارہ آنا قرار دے رہی ہوگی ،اس کے غلاموں کے اوپر پورے کئے جائیں گے۔وہ ساری باتیں ان کے حق میں پوری ہوں گی۔پس وہ جو سبحان اللہ پڑھ رہے تھے۔وہ اس بات پر پڑھ رہے تھے کہ ملکے کی گلیوں میں تو کبھی بلال گھسیٹا جاتا تھا، کبھی اور طرح طرح سے غلاموں اور ادنی اور غریب لوگوں کو سزائیں دی جاتی تھیں۔آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان کر میری قوم نے مجھ سے بھی وہی سلوک کیا ہے۔تو دیکھو یہ کاٹا جانے کا مضمون ہے تو حید ایک طرف کاٹ رہی ہے، اپنی سوسائٹی سے الگ کر رہی ہے اور اتنا الگ کر رہی ہے کہ وہ جو پہلے عزت کرنے والے تھے وہ اتنے دشمن ہو گئے کہ ہر قسم کی غیر انسانی حرکتوں پر اتر آئے مگر ملایا تو کن سے جا ملایا۔رفقاء سے جا ملایا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ھے سے ملا جب مجھ کو پایا