مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 551

551 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کی نیکیوں کو زندہ رکھو۔اپنے گھروں میں ان کا ذکر خیر چلایا کر واپنے ماں باپ سے سنا کرو کہ وہ کون لوگ تھے، مگر میں نے تو اکثر نئی نسل کے بچوں سے جب سوال کئے ہیں تو مشکل سے باپ کا نام پا یا درہتا ہے اور ماں کا مما اور اس سے آگے چلیں تو ان کو کچھ پتا نہیں کہ وہ کون تھے۔ان کی لاعلمی کے ذمہ دار آج کی نسل کے بڑے بزرگ لوگ ہیں۔ان پر لازم ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کی جستجو کریں۔خود تلاش کریں کہ وہ کون تھے اور دین کی راہوں پر انہوں نے کیا کیا قربانیاں کی تھیں؟ پھر اگلی نسلوں کو وہ باتیں بتائیں اور جب یہ بتائیں گے تو لازماً جو انہوں نے کھویا تھا اس کے ذکر کے ساتھ جو پایا ہے وہ بھی تو بتانا ہوگا۔کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ خدا کے راستے میں کھونے والے کچھ پانہ رہے ہوں۔ان کا کھونا پانے کے نتیجے میں ہوا کرتا ہے۔ایک ہاتھ سے وہ جو کچھ ان کا تھاوہ بظاہر ضائع کر رہے ہوتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ لے رہے ہوتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتا، جو عطا کا ایک نہ ختم ہونے والا ، ایک جاری وساری سلسلہ ہے۔ایک ایسے رازق خدا کی طرف سے ہے جس کا رزق ساری کائنات بھی وہ بخش دے تو پھر بھی ختم نہیں ہوگا۔پس پانے کے نتیجے میں کھونے کا غم کم ہوتا ہے اور یہ ایک طبعی اور لازمی حقیقت ہے، جو انسانی فطرت کی گہرائی سے تعلق رکھتی ہے۔جب تک اس کو آپ نہیں سمجھیں گے تو تربیت کے رازوں سے ناواقف رہیں گے۔پس وہ لوگ جو اپنے آباؤ اجداد کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ انہوں نے احمدیت کی راہ میں یہ کچھ کھویا، اگر یہیں کھڑے ہو گئے تو حقیقت میں وہ اس مضمون کا حق ادا نہیں کر سکیں گے۔بلکہ بعض دفعہ غلط پیغام دے رہے ہوں گے۔گویا ہمارے آباؤ اجداد تھے جنہوں نے احمدیت پہ یہ احسان کئے تھے جن کے نتیجے میں احمدیت قائم ہوئی۔اسی قسم کے غلط متکبرانہ خیال کی نفی کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ لَا تَمَنَّوْا عَلَيَّ اِسْلَامَكُمْ۔یعنی ایسے لوگوں کو اے رسول یہ کہہ دیا کر لَا تَمَنَّوا عَلَی اِسْلَامَكُمْ۔مجھ پر اپنا اسلام نہ جتایا کرو۔اسلام تو تم پر جتانے والی چیز ہے۔اسلام نے تو تمہاری کا یا بیٹی ہے تمہارے اندر عظیم تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔بے وقوفو! یہ سوچو کہ اسلام کے کتنے احسانات ہیں۔تو ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو تو حید کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اپنے آباؤ اجداد کے اوپر جو خدا کے فضل نازل ہوئے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے پھر ان سے احسانات کے سلسلے کئے ہیں، ان کا بھی ذکر خیر چلے۔یہ بھی تو بتایا کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو رد کیا اور کشوف میں آئندہ کی خبریں دیا کرتا تھا۔کس طرح مشکل وقتوں میں ان کا سہارا بنا کرتا تھا۔وہ کیا تھے انہوں نے کیا کھویا تھا، اور پایا کیا۔اور ان کی نسلیں کس طرح دنیا میں پھیل گئیں اور عظیم الشان ترقیات حاصل کیں؟ یہ باتیں بھی ساتھ بتائی جائیں تو ایسی صورت میں نئی نسل کا پچھلی نسل سے تعلق ٹوٹ سکتا ہی نہیں۔کل کی جرمن مجلس میں ایک مخلص