مشعل راہ جلد سوم — Page 545
545 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم مظہر ہوں اور مجسم نور کا مظہر ہوں۔ہوں گے ضرور کیونکہ انبیاء کا تعلق تو حید ہی سے ہے مگر چمک دمک میں فرق ہوا کرتا ہے۔پس میں اس پہلو سے کہ رہا ہوں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جو تو حید چمکتی تھی جس طرح وہ ظاہر وباہر ہوا کرتی تھی اس شان کی تو حید آپ کو باقی تمام انبیاء میں دکھائی نہیں دے گی۔یہ بہت وسیع مضمون ہے جس پر میں پہلے بھی گزشتہ خطبات میں روشنی ڈالتا چلا آیا ہوں۔آج صرف ایک چھوٹی سی مثال دی ہے کہ آپ نے اگر تو حید کو قائم کرنا ہے تو نعروں سے تو حید قائم نہیں ہوگی۔اس لئے اگر نعروں ہی کو دیکھیں تو بعض دفعہ نعرے بھی تو حید کے منافی ہوا کرتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے۔کئی لوگ ہیں جو ہاتھ بلند کر کر کے بانہیں مار مار کے زور سے کہتے ہیں نعرہ ہائے تکبیر اور چہرہ ٹیلی ویژن کی آنکھ پر ہوتا ہے کہ ٹیلی ویژن ان کو دیکھ رہی ہے کہ نہیں دیکھ رہی اور بار بار وہ دیکھتے ہیں کہ کس حد تک دنیا کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ ہم نے اس زور اور شدت کے ساتھ باز و ہلا ہلا کے نعرہ تکبیر بلند کئے ہیں۔اب وہ نعرہ تکبیر تو نہیں وہ تو ایک نعرہ شرک ہے۔جب آپ نعرہ مارتے ہوئے مشرک بن جاتے ہیں اپنے وجود کی عبادت اپنے وجود کی بڑائی مقصود ہوتی ہے اور نام اللہ کا لے رہے ہوتے ہیں تو خود اپنے وجود ہی کو تو اللہ قرار دیتے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے بہت زبر دست کمال کر دیا ہے۔نعرے تو منع نہیں مگر نعرے اس وقت اٹھنے چاہئیں جب دل تھرا اٹھیں توحید کے اثر سے۔جب جسم پر لرزہ طاری ہو چکا ہو۔انسان بے اختیار ہو جائے۔ایسے اوقات میں خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش اور عظمت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے ہیں مگر جہاں بھی تصنع آئے گا وہاں توحید غائب ہو جائے گی۔پس اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ تو اعلان کر کہ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ میرے وجود کا ایک ایک حصہ، میرے وجود کا ذرہ ذرہ شرک سے پاک ہے۔اس پہلو سے مجھ میں تم کوئی بھی تکلف نہیں دیکھو گے۔ناراضگی ہوتی تھی تو ناراضگی کا اظہار کیا کرتے تھے مگر اس میں بھی کوئی تکلف نہیں ہوا کرتا تھا۔محبت تو تھی ، رحمت تو ایسی تھی جس کے چشمے رواں تھے مگر اس میں بھی کبھی آپ نے مبالغہ نہیں فرمایا۔پس تو حید کے قیام کیلئے سب سے پہلے اپنی ذات میں تو حید کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔اس کے بغیر ہم دنیا میں تو حید کو قائم نہیں کر سکتے دنیا تو در کنار خود اپنے گھر میں بھی تو حید قائم نہیں کر سکتے۔یہ وہ پہلو تھا جس کے پیش نظر میں نے گزشتہ سال خدام کو تحریک کی تھی کہ جھوٹ سے توبہ کریں۔اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنے ہیں جنہوں نے اس تحریک کے بعد جھوٹ سے تو بہ کی ہے مگر جھوٹ کا جو مفہوم میں