مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 537

537 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم کوئی فکر نہیں۔اولاد آزاد ہے جو چاہے کرے، میں کیوں کسی کے معاملے میں دخل دوں۔انہوں نے انصاف کا یہ ایک چر بہ بنا رکھا ہے اور حقائق سے دور ہیں۔جب وہ بچہ فیل ہوتا ہے سکول میں، ان کو فکر ہوتی ہے۔جب وہ ایسا رستہ اختیار کرتا ہے کہ دنیا میں اس کی صلاحیتیں ضائع ہوں تو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔اس کو ٹھیک کرنے کے لئے پورے خرچ کرتے ہیں۔تو ان کا ایک عمل ان کے دوسرے عمل کو جھٹلا رہا ہے۔ثابت کر رہا ہے کہ یہ غفلت کی حالت ہے۔یہ کوئی شرافت نہیں ہے، انصاف نہیں ہے، یہ ضمیر کی آزادی نہیں ہے۔ضمیر کی آزادی تم وہاں دے رہے ہو جہاں اس کا نقصان ہو رہا ہے ، جہاں روحانی نقصان ہورہا ہے۔اور جہاں دنیاوی نقصان ہے وہاں تم اس کو ضمیر کی آزادی نہیں دیتے تو اس کا نام تم نے انصاف کیسے رکھ دیا۔اپنے اور اپنے اہل وعیال کے اخلاق پر گہری نظر رکھیں تو اخلاقی حالتوں کی طرف واپس آنے میں جو اندرونی گھریلو حالتیں ہیں ان پر نگاہ رکھنا بہت ہی ضروری ہے۔اپنی ساری اولاد کی طرف نظر رکھیں، اپنی بیوی کی طرف نظر رکھیں ، اپنے بچوں، ان کے بچوں کی طرف نظر رکھیں اور غافل نہیں ہونا کیونکہ آپ سب کو ایک اکائی کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔انفرادیت کے لحاظ سے ہر شخص اپنا جواب دہ الگ ہے۔لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى (الانعام: 165) کوئی بھی جان نہیں ہے جو کسی اور جان کے لئے ذمہ دار قرار دی جائے ، اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔مگر بعض بوجھ ہیں جو قومی بوجھ ہیں۔جیسے انبیاء کے بوجھ ہیں، وہ بڑے عظیم قو می بوجھ ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بوجھ اٹھانے والے سے بڑھ کر بوجھ اٹھا لیا۔ان معنوں میں یہ بوجھ ہے کہ ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں۔وہ ذمہ داریاں جن کو آسمانوں نے اور زمین نے اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا فَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو آگے بڑھے اور سارے بوجھ اٹھالئے اور سارے بنی نوع انسان کو تعلیم دینے کا اور ان کے لئے نمونے قائم کرنے کا بوجھ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ اس کے تصور سے بھی انسان کانپ اٹھتا ہے اور اس معاملے میں آپ فرماتے ہیں میں پوچھا جاؤں گا، آپ نے ہر ایک کو کہا کہ جس دائرے میں تم نگران بنے ہو، دائرے کی وسعت اور مقام کی عظمت کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی تو بڑھتی ہیں اور جہاں تم نا کام ہو گے تم سے سوال کیا جائے گا۔پس انفرادی بحث الگ ہے اور اجتماعی ذمہ داریوں کی بحث الگ ہے۔میں آپ کو خاندانی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔اپنے اہل وعیال کے اخلاق پر گہری نظر رکھنا اور اپنے ہی اخلاق پر نہیں