مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 536

536 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم حال پر نظر کرے کہ وہ آگے بڑھ رہا ہے یا بحیثیت ایک خاندان کے پیچھے ہٹ رہا ہے۔اس کا مستقبل کیا ہے جس کی اولاد پیدا ( مومن) ہوئی ہو۔یعنی خدا تعالیٰ نے اسے (دینی) قدروں پر اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کی قدروں پر پیدا کیا ہو وہ اس کی آنکھوں کے سامنے دور ہٹ رہی ہو اور واضح نظر آرہا ہو کہ رستہ جہنم والا رستہ ہے اس پر آرام سے بیٹھا ہوا ہے اس کو شریف کون کہہ سکتا ہے۔یعنی شریف ان معنوں میں ہے کہ وہ لوگوں سے معاملے میں ٹھیک ٹھاک ہے مگر یہ شرافت نہیں بزدلی ہے۔بعض دفعہ بزدلی کا نام شرافت رکھ دیا جاتا ہے۔کسی نے کسی سے کہا تھا کہ تو جو طاقتور ہے اس کے سامنے بڑا خاموش ہو جاتا ہے اور جو کمزور ہے بے چارہ اس کے اوپر چڑھ دوڑتا ہے۔اس نے جواب دیا میری طبیعت میں شرافت بڑی ہے، جب کسی طاقتور کو دیکھتا ہوں مجھے بڑا رحم آتا ہے اس پر اور جب کمزور کو دیکھتا ہوں مجھے بڑا غصہ اس پر آتا ہے۔یہ اس کی شرافت ہے۔تو شرافت غفلت کے ساتھ اکٹھی ہو نہیں سکتی۔وَهُمْ غَافِلُوْنَ والا مضمون سمجھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اپنی اولاد کو نیکی کے رستے پر گامزن رکھنا اور ان خطرات سے بچانا، یہ آپ کا اخلاقی اور بنیادی فرض بھی ہے اور حق بھی ہے اور اس غفلت کی حالت میں جو آپ نیک لوگوں کی نسلیں ضائع کر دیتے ہیں پوچھے جائیں گے۔اگر بے اختیاری کی حالت میں اولا د ہا تھ سے نکل جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا مگر فطرت کے دکھ میں اس کو سزا ضرور مل جاتی ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی مثال دیکھیں کہ اولاد ناشکری بنی، اس نے غلط راہ اختیار کر لی، ایسا عمل نہیں کیا جسے صالح عمل کہا جاسکتا ہے تو حضرت نوح کے قرب نے اسے بچایا نہیں۔حضرت نوح کو اس کی وجہ سے سزا نہیں ملی کہ حضرت نوح کی پوری کوششوں کے با وجود وہ اولا د ایسی نکلی۔مگر ایک چیز ضرور تھی کہ حضرت نوح اس پر تفصیلی نظر نہیں رکھ سکے تھے۔یہ بھی ایک لطیف غفلت کی قسم ہے اور خدا کا انصاف ایسا کامل ہے کہ اس کی سزا بھی دیتا ہے پھر۔چنانچہ حضرت نوح کو جو دکھ پہنچا ہے بیٹے کو غرق ہوتا ہوا دیکھ کر ، وہ ان کے لئے ایک سزا تھی اور اتنی بڑی سزا کہ بول اٹھے کہ اے خدا! تو نے وعدہ کیا تھا کہ میری اولا دضائع نہیں کی جائے گی۔تب خدا نے فرمایا کہ تجھے پتہ نہیں۔یہ تیری اولا د وہ اولا د نہیں ہے جس کے لئے میں نے حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔تو غفلت ہوئی، جرم کے طور پر اس کو سزا تو نہیں ملی مگر فطری تقاضوں کے نتیجے میں سزا ضرور مل جاتی ہے۔پس جن لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے وہ غفلت میں اپنی اولادوں کو ضائع کرتے ہیں ان کی بھی مختلف قسمیں اور درجے ہیں۔کچھ تو غافل ان معنوں میں ہیں کہ ان کو پرواہ ہی کوئی نہیں۔وہ سمجھتے ہیں میں اپنی ذات کا ذمہ دار، مجھے