مشعل راہ جلد سوم — Page 535
مشعل راه جلد سوم 535 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ اپنے لئے بنالیں اور اگر آپ کو توفیق ملی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ آئندہ آنے والا سال گزرے ہوئے سال سے ضرور بہتر ہوگا۔انشاء اللہ۔معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے کا عہد دوسرا وہ جو معاشرتی بدیاں ہیں جن کے نتیجے میں بہت سی بد اخلاقیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کے اوپر عبور حاصل کرناضروری ہے۔بار ہا نصائح کے باوجود جن لوگوں پر نہیں اثر ہوتا ان پر نہیں ہوتا اور اس کے باوجود نصیحت کرتے چلے جانے کا حکم ہے۔جو بدخلق اپنی بیویوں سے بدخلق ہیں، اپنی اولادوں سے بدخلق ہیں، اپنے رشتہ داروں سے بد خلقی سے پیش آتے ہیں وہ جب اس قسم کے خطبات سنتے ہیں تو اور بھی زیادہ اپنے گھر والوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم بچ جاؤ گے تم ہو ہی گندے بے ہودہ لوگ، میں تمہیں ٹھیک کر دوں گا اور یہ حوالے نہ دیا کرو مجھے اور پھر وہ بے چارے ہمیں خط لکھتے ہیں اور اسی طرح بعض بے چارے مرد ہیں جن کا حال یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے سامنے وہ اس طرح اف نہیں کر سکتے جس طرح بچوں کو حکم ہے کہ ماں باپ کے سامنے اف نہیں کرنی اور ان کی ہر بات کے اتنا غلام کہ اپنی اولا دوں کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر بیٹھے ہیں۔بیوی غیر احمدی، باپ احمدی مگر ایسا زن مرید کہ وہ اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے جہنم کی طرف دھکیلا جاتا دیکھتا ہے اور مجال نہیں کہ جو آگے سے آواز بلند کر سکے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اخلاقی کمزوری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک زوجہ میں پائی تو پیغام چھوڑ دیا کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو ان کو کہنا اپنی چوکھٹ بدل لیں اور آپ نے طلاق دے دی۔وہ دین کے لحاظ سے مختلف دین نہیں رکھتی تھی مگر جہاں دین کا اختلاف بھی ہو اور اولاد کو واضح طور پر لادینی قدروں کی طرف لے جارہی ہو کوئی بیوی، اس کے ساتھ چمٹے رہنے کا جواز ہی کون سا ہے؟ بہت پہلے طلاق دے کر الگ کر دینا چاہیے تھا۔مگر ایسی بھی ہیں جو عیسائی بنارہی ہیں، جو د ہر یہ بنا رہی ہیں، جو ہر قسم کی دینی اقدار سے غافل کرنے کے لئے با قاعدہ سکیم بناتی ہیں اور ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے بہت شریف آمی، بڑا ہی شریف النفس احمدی، بڑا با اخلاق ہے، چندے بھی دے دیتا ہے اور نمازیں بھی پڑھتا ہے اور دیکھ رہا ہے آنکھوں کے سامنے اس کی اولاد جہنم میں جارہی ہے۔یہ شرافت ہے یا نا مردی۔کیا اس کا نام آپ رکھیں گے؟ جن باتوں کے لئے انسان کو نگران بنایا گیا ہے، لازم ہے کہ ان پر نظر رکھے اور اس لحاظ سے بھی اپنے