مشعل راہ جلد سوم — Page 509
509 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اعمال میں وہ خوبیاں پیدا کریں جن کا اس رویا میں ذکر موجود ہے۔اس قوم تک پہنچنے کے لئے بعض بنیادی صفات آپ میں ہونی ضروری ہیں۔جیسا اس قوم میں ڈسپلن ہے ایسا بلکہ اس سے بڑھ کر ڈسپلن آپ کو دکھانا ہوگا۔جیسی اس قوم میں اجتماعیت ہے اس سے بڑھ کر اور حسین ترین اجتماعیت ( دین حق ) کے نام پر آپ کو ظاہر کرنی ہوگی۔پھٹے ہوئے دلوں کے ساتھ اس قوم کو فتح نہیں کیا جاسکتا۔ان پھٹتے ہوئے دلوں کو پھٹے ہوئے دل جوڑ ہی نہیں سکتے۔وہ لوگ جن کے آپس میں فاصلے بڑھ رہے ہوں وہ دوسروں کے فاصلے کیسے پاٹ سکتے ہیں۔پس آپ کو ایک جان ہونا پڑے گا وہ اخوۃ بنا ہو گا جس کا قرآن کریم میں مومنوں سے تعلق میں ذکر ہے اور جواخوۃ خدا کی خاص رحمت کے نتیجے میں مومن بنا کرتے ہیں۔قلوب کو آپس میں باندھنا کسی فرد بشر کا کام نہیں۔یہ اللہ کی رحمت اور اس کی تائید سے ہوتا ہے۔پس لازم ہے کہ اس سلسلے میں اپنے لئے دعائیں کریں۔ہر گھر میں یہ دعا ئیں ہونی چاہئیں، ہر مجلس میں یہ دعائیں ہونی چاہئیں۔آپ اس دعا کو اپنا مقصود بنالیں کہ اے وہ خدا جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایک پھٹی ہوئی ،بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کیا تھا جس نے ان کے پھٹتے ہوئے دلوں کو ایک جان کر دیا تھا جس نے ان کو دوبارہ محبت کے رسوں سے جکڑ دیا تھا اور ایک جسم کی طرح بنیان مرصوص بنا دیا تھا۔وہ الگ الگ پارہ پارہ وجود نہیں رہے بلکہ ایک مضبوط دیوار کی طرح اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور کوئی طاقت اس دیوار میں رخنہ نہ ڈال سکی۔یہ وہ کردار ہے جو اس قوم میں آپ کو دوبارہ دکھانا ہوگا ، اس کا از سرنو احیاء کرنا ہوگا۔جماعت احمدیہ کی تنظیم کے ساتھ اس طرح وابستہ و پیوستہ ہو جائیں کہ کوئی دنیا کی طاقت، کوئی نفس کا شیطان آپ کو اس تعلق سے الگ نہ کر سکے۔یہ وہ عروہ و شقی بن جائے جس پر آپ کا ہاتھ پڑے، جس سے اس ہاتھ کا ٹوٹنا اور الگ ہونا ممکن ہی نہیں۔پس ایک تو میں آپ کو وحدت کی تعلیم دیتا ہوں اپنے نظام کے تابع ہوں ، اپنے امیر کے تابع ہوں، اپنے صدر کے تابع ہوں اور ان کے نیچے جتنے بھی مختلف نگران خدا کی نمائندگی میں، حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندگی میں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں مقرر کئے جاتے ہیں ان کی اطاعت اپنے پر فرض کر لیں۔یہ اطاعت حسنہ ہے۔یہ وہ قوم ہے جس نے ایک بُری اطاعت میں ایک عظیم نمونہ قائم کیا ہے۔ایسا نمونہ قائم کیا ہے جس کی مثال سارے عالم کی تاریخ میں نہیں ملتی کہ ایک برے پیغام کو لے کر ساری قوم اس طرح متحد ہوگئی کہ ساری دنیا کو چیلنج کر دیا اور تمام دنیا اس کے خوف سے تھر تھرانے لگی۔آپ کا پیغام حسین ہے۔آپ کا پیغام نائسی پیغام نہیں ہے، آپ کا پیغام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ہے۔آپ کا پیغام یہ نہیں ہے کہ آپ