مشعل راہ جلد سوم — Page 486
مشعل راه جلد سوم 486 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی سفروں کا لمبا تجربه مجھے تفصیلی حالات کا تو علم نہیں لیکن جیسا کہ میں پاکستان کے حالات کا کسی حد تک واقف ہوں میں نے وہاں بہت دورے کئے ہیں تانگوں پر بھی ، سائیکلوں پر بھی اپنی ٹانگوں پر بھی ، بسوں پر بھی، پیدل بھی اور اپنی ایک پرانی کار پر بھی۔غرضیکہ سفر کے مجھے تجارب ہیں اور میں سمجھتا ہوں بہت کم آدمیوں نے ، سوائے انسپکٹر ان بیت المال کے، اتنا سفر کیا ہوگا۔لیکن انسپکٹر ان بیت المال کے سفر تو بعض مخصوص علاقوں تک محدود رہتے ہیں۔میں نے مشرق کا بھی سفر کیا، مغرب کا بھی ، شمال کا بھی ، جنوب کا بھی ، گرمیوں میں بھی ، سردیوں میں بھی ، خشک موسم میں بھی ، بارش میں بھی ، خدام الاحمدیہ کی حیثیت میں بھی ، وقف جدید کی حیثیت سے بھی ، انصار کی حیثیت سے بھی، اس لئے میں تفصیل سے جماعت کا شناسا ہوں۔جماعت مجھے جانتی ہے میں جماعت کو جانتا ہوں۔لوگوں کے گھروں تک پہنچا ہوں اور یوں لگتا ہے ایک بڑے خاندان کا میں ایک فرد ہوں۔اس لئے جب میں آپ سے باتیں کرتا ہوں تو اگر چہ یہاں کے حالات کے متعلق یہ میرے اندازے ہیں جن کے پیچھے ایک لمبے تجربے کا پس منظر ہے۔پس مجھے علم ہے کہ کن کن علاقوں میں احمدی بستے ہیں، کس حد تک وہاں تربیت کی کمی ہے۔بعض ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو عہدہ پہلی دفعہ پانے کے بعد اپنے رویے کو ایسا بنا لیں جس کے نتیجے میں ردعمل پیدا ہو۔لیکن اکثر صورتوں میں ایسا نہیں ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ من حیث الجماعت ، جماعت کا مزاج عاجزانہ ہے اور اخلاص سے گوندھا ہوا ہے۔چنانچہ کثرت سے مجھے ایسے عہد یداران کے خط ملتے ہیں جنہیں پہلی مرتبہ زندگی میں کسی عہدے پر منتخب کیا گیا ہو اور وہ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں تو کچھ آتا ہی نہیں ، ساری عمر اسی طرح گزاری ، اب یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ہمارے کندھوں پر ڈالی ہے ہم بہت ڈرتے ہیں، ہم خدا کا بہت خوف رکھتے ہیں۔ہمارے لئے دعا کریں کیونکہ دعاؤں کی مدد کے بغیر ہم اس فریضے کو ادا نہیں کر سکتے۔پس جن کا مزاج ایسا ہو ان کے متعلق یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اُس فریق میں شامل ہوں جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے۔وہ فریق موجود تو ہے لیکن تھوڑا ہے۔ورنہ اکثریت ایسی ہے جو سادہ لوگ ہیں ، لاعلمی سے غلطیاں کرتے ہوں گے لیکن عمد اوہ کسی جگہ بھی تحکم سے کام نہیں لیتے۔پھر ان کو کیوں اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔صرف ان کو اعتراض کا نشانہ نہیں بنایا جا تا جو غلطیاں کرتے ہیں بلکہ ان کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو غلطیاں نہیں کرتے۔اس کی وجوہات کئی ہیں۔ایک تو وہ لوگ ہیں جن