مشعل راہ جلد سوم — Page 476
476 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جتنا جرمنی نے پاکستان کے غم زدہ اور تکلیف اٹھانے والے احمدیوں کو پناہ دی ہے اور جس جذبہ کے ساتھ اپنے ملک کے دروازے آپ پر کھولے ہیں اور ان کو امن مہیا کیا ہے۔یہ ایک ایسا احسان ہے جو مجھے ہمیشہ جرمنی کے لئے دعائیں کرنے کی یاد دہانی کراتا رہتا ہے اور بعض اوقات رات کی تنہائیوں میں میرے دل کی گہرائی سے اس ملک کے لئے دعا اٹھتی ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس ملک کے باشندوں کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ کوئی شخص کہیں بیٹھا ان کے لئے دعا کر رہا ہے۔ساری جماعت احمدیہ کو اس معاملہ میں امام کے ساتھ شامل ہونا چاہیے اور جرمنی کو ہمیشہ اپنی خصوصی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے۔دنیا کے لحاظ سے تو ہم ان کو بدلہ نہیں دے سکتے۔اگر کچھ بدلہ دے سکتے ہیں تو اعلیٰ اخلاقی تعلیم دے کر اور انہیں ( دین حق ) کی طرف بلا کر دے سکتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ ان کی نظر میں یہ بدلہ کوئی بدلہ نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز میں ہماری نظر میں قدر رکھتی ہیں ان کی نظر میں وہ کوئی قدروقیمت نہیں رکھتیں مگر جب ہم ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو محض اعلی کردار اور مذہبی ہدایت عطا ہونے کی ہی نہیں کرتے بلکہ ہم ان کے لئے دنیا کے لحاظ سے بھی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ان کو دنیوی حسنات بھی عطا فرما۔پس ان کے لئے ہدایت یابی کے ساتھ ساتھ دنیوی حسنات عطا ہونے کی دعا بھی کیا کریں تا کہ یہ خوشحال ہوں اور اس طرح پہلے سے بہتر اور مضبوط ہوتے جائیں۔ان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو لیکن آپ جانتے ہوں اور آپ کے دل اس امر کے گواہ ہوں کہ آپ کے خدا نے آپ کی طرف سے اس قوم کے احسانات کا بدلہ اتنا اتارا ہے کہ جتنے وہ حقدار بھی نہیں تھے۔پس اب جبکہ جرمنی کے مشرقی اور مغربی حصے کی دو علیحدہ علیحدہ اقتصادیات آپس میں مل رہی ہیں اور اس کے نتیجہ میں نئے حالات پیدا ہورہے ہیں میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ دعائیں کرتے ہوئے آپ بھی اس امر کے لئے کوشش شروع کر دیں کہ مشرقی جرمنی کے بھی خدام الاحمدیہ کو اور وہاں کی جماعت کے دیگر خدام کو پورے جرمنی کے جماعتی اجتماعات میں اسی طرح بھر پور حصہ لینے کی توفیق ملے جس طرح سابقہ مغربی جرمنی کے خطہ کے احمدی ایسے روحانی اجتماعات میں بکثرت شامل ہوتے ہیں۔اس پہلو سے جرمنی کے مشرقی حصہ میں جو کمی ہے اللہ تعالیٰ اس کو دور فرما دے۔اقتصادی لحاظ سے مشرقی حصہ کی کمی کو دور کرنا جن لوگوں کی ذمہ داری ہے وہ اپنی اس ذمہ داری کو بڑی توجہ سے ادا کر رہے ہیں۔وہ بڑی بیدار مغزی اور بڑی محنت کے ساتھ بڑے بڑے چیلنج قبول کر رہے ہیں اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی انتھک مساعی کے نتیجہ میں کچھ عرصہ کے اندر اندر مشرقی جرمنی کی اقتصادیات بھی مغربی جرمنی کی اقتصادیات کے برابر ہو