مشعل راہ جلد سوم — Page 441
مشعل راه جلد سوم 441 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور رحمہ اللہ نے فرمایا:- اگر چہ یہ اجتماع کا آخری دن نہیں اور عموماً دستور کے مطابق اختتامی خطاب کیا جاتا ہے خلیفہ وقت کی طرف سے۔وہ آخری روز ہوتا ہے۔لیکن چونکہ مجھے صد سالہ جشن تشکر کے سال کے ضمن میں بہت سے سفر کرنے پڑرہے ہیں۔اس لئے میں زیادہ وقت کسی ایک جگہ نہیں دے سکتا۔اس لئے ان کے اصرار پر یعنی خدام الاحمدیہ جرمنی کے اصرار پر میں نے اپنے سفر جرمنی کو دوبارہ شامل تو کر لیا ہے مگر صرف دو دن یہاں دے سکا ہوں۔چنانچہ میری ہی درخواست پر انہوں نے آج کے دن دوسرے اجلاس میں آخری خطاب کے لئے وقت رکھ لیا لیکن آپ کا اجتماع انشاء اللہ کل بھی جاری رہے گا اور حسب دستور جو بھی کارروائی باقی ہے وہ بھی انشاء اللہ چلتی رہے گی۔آج کے خطاب میں میں اسی مضمون کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا ذکر میں نے ہالینڈ سے شروع کیا اور اس بات کو آگے یہاں جرمنی میں خطبے میں بڑھایا اور اس کا تیسرا حصہ آج انشاء اللہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔خالق اور مخلوق کا رشتہ سب سے بڑا اور مضبوط رشتہ ہے میں نے ذکر کیا تھا کہ دعا خدا سے تعلق کے نتیجے میں تقویت پاتی ہے اور خدا سے تعلق کے سلسلے میں چند باتیں آپ کے سامنے کھول کر رکھی تھیں کہ جب تک خدا کی صفات کو آپ اپنے اندر جاری نہیں کریں گے اس وقت تک حقیقت میں آپ کی خدا سے شناسائی نہیں ہوسکتی۔انسان اپنے روز مرہ کے تجربے میں یہ جانتا ہے کہ جس سے شناسائی ہو اس کی بات انسان زیادہ قبول کرتا ہے۔یہ شناسائی آگے بڑھ کر گہرے تعلق میں تبدیل ہو جاتی ہے اور گہرے تعلقات پھر خونی رشتے کی شکل میں بھی ہمارے سامنے آتے ہیں اور خونی رشتوں میں پھر ماں بچے کا رشتہ ایک غیر معمولی طاقت رکھتا ہے۔میں نے آپ کے سامنے یہ بات کھول کر