مشعل راہ جلد سوم — Page 430
430 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم سے میں اس بات پر ہمیشہ زور دیتا ہوں کہ انفرادی ( دعوت الی اللہ ) ہی سے درحقیقت کامیابیاں وابستہ ہوا کرتی ہیں اور اجتماعی اور لٹریچر کے ذریعہ پیغام پہنچانے کی جو کوششیں ہوتی ہیں وہ دلوں پر عمومی اثر تو ڈال دیتی ہیں ، دماغوں کو بالعموم مائل تو کر دیتی ہیں مگر انسانی واسطے اور انسانی تعلق کے بغیر ، خصوصاً انفرادی کردار کو دیکھے بغیر لوگ مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کرتے۔پس وہ نصیحت اپنی جگہ ہے اور اس موضوع پر میں بارہا پہلے بھی آپ سے خطاب کر چکا ہوں لیکن جہاں تک اجتماعی تعلق کا سوال ہے یعنی اجتماعی طور پر دوسری تنظیموں کے ساتھ رابطہ پیدا کرنا اس کو بھی اس سلسلہ میں ایک بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔آج کل یورپ میں جوانوں کی تنظیمیں بہت ہی زیادہ مستعد ہورہی ہیں اور بالعموم آج کے دور میں یورپ کے نوجوان جب بھی کوئی تنظیم کی شکل اختیار کرتے ہیں تو وہ تنظیم اپنے ماضی کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر رہی ہوتی ہے اور یہ قدر مشترک صرف یورپ کے نوجوانوں کی تنظیم کی ہی نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر مغربی دنیا میں بھی یہی رجحانات ہیں جو سراٹھا رہے ہیں۔پس ایک طرف تو خدام الاحمدیہ کی تنظیم ہے جو اپنے ماضی کے ساتھ اپنے روابط کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں ہے اور ماضی کی کھوئی ہوئی قدروں کو دوبارہ اپنی ذات میں زندہ کرنے کے لئے پروگرام بنا رہی ہے دوسری طرف دنیا کے یہ نوجوان ہیں جن کا رخ اپنے ماضی سے ہٹ کر کسی ایسی سمت میں ہے جسے ابھی تک وہ معین نہیں کر سکے۔اس پہلو سے ہمارا ان سے رابطہ اور تعلق بہت ضروری ہے لیکن میں آپ کو یہ بات سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ بظاہر یہ دور خ مختلف ہیں لیکن حقیقت میں یہ رخ مختلف نہیں ہیں۔( دین حق ) کی طرف یورپ کا بڑھتا ہوا رجحان زیادہ یورپ کا ماضی ( دین حق) سے زیادہ دور تھا۔یورپ کے ماضی کا مزاج ( دین حق ) کے خلاف بہت مشتعل تھا اور حد سے زیادہ غلط فہمیوں پر مبنی تھا۔اس لئے اگر یورپ کے نوجوان اپنے ماضی کے خلاف بغاوت کرتے ہیں تو وہ (دین حق) سے دور نہیں ہٹتے بلکہ ( دین حق ) کی قدروں کے قریب تک آتے ہیں یا آ سکتے ہیں۔اس لئے ان کی بغاوت یعنی ان کی اپنے ماضی سے بغاوت آپ کے اپنے ماضی سے قریب ہونے کے مخالف رو پیدا نہیں کرتی بلکہ اس کے موافق رو پیدا کرتی ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگاہ زندہ وار