مشعل راہ جلد سوم — Page 38
مشعل راه جلد سوم 38 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی زندگی وقت کے ایک با مقصد مصرف کا نام ہے زندگی وقت کے ایک با مقصد مصرف کا نام ہے جب یہ زندگی میسر آ جائے تو انسان ہر طرف سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بن جاتا ہے اور خود لطف اٹھاتا ہے۔چنانچہ نیوٹن کے نوکر نے نیوٹن کے متعلق بیان کیا کہ اس نے نیوٹن کو کبھی سوئے ہوئے نہیں دیکھا۔لوگ اس کو ز بر دستی پکڑ کر کہیں تقریر کے لئے لے جائیں تو لے جائیں ورنہ وہ دن رات کام کرتا رہتا تھا۔ہم رات کو سوتے تھے وہ جاگ رہا ہوتا تھا۔صبح ہم اٹھتے تھے تو وہ اٹھا ہوا ہوتا تھا۔یا کتا بیں تھیں یا تجربے تھے جن میں دن رات لگا رہتا تھا۔تیسری چیز تو اس میں کو ئی تھی ہی نہیں۔ایسا کیوں تھا۔وہ محض محنت نہیں کر رہا تھا اس کو ان چیزوں میں مزہ آرہا تھا اور یہی زندگی کے بالذت ہونے کا نسخہ ہے۔زندگی با مقصد ہو جائے اور اس مقصد کے تابع خرچ ہونے لگے تو لطف آنا شروع ہو جاتا ہے۔دنیا بجھتی ہے کہ وہ مصیبت میں پڑا ہوا ہے، اتنا وقت دے رہا ہے تھک جائے گا۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس کو زندگی کے ہر اس لمحہ میں مزہ آ رہا ہوتا ہے جو زندگی کے اس مقصد کی پیروی میں خرچ کرتا ہے اس سے ہٹ کر جو زندگی کا لمحہ ہوتا ہے اس میں وہ بور ہورہا ہوتا ہے۔اب لوگ مسجد میں جا کر بور ہو رہے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد سے نکل کر بور ہوتے تھے۔بعض روایتوں میں آتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسجد میں انکا ہوتا تھا۔بوریت کا یہی مطلب ہے۔باہر دل نہیں لگتا تھا۔جب وقت ملتا تھا کا موں سے فراغت ملتی تھی تو مسجد میں جا کر دل لگ جا تا تھا۔تو یہ صرف زاویہ نظر کے اختلاف کی بات ہے۔کام اپنی ذات میں لذت ہے اگر مقصد کے تابع ہو جائے۔اس لئے مقصد بلند کریں اپنی ہمتوں کو بلند کریں۔انفرادی طور پر بھی Productive ہوں اور مضامین کے سلسلہ میں بھی سرگرم ہوں۔آپ کے جو رسالے نکل رہے ہیں ان میں بھی اور اپنی مجالس میں بھی آپ ایسے مضامین پڑھیں جود ماغوں کو انگیخت کریں۔سائنسدانوں کے حالات پڑھیں مثلاً سائنسدانوں کی زندگیوں کے حالات ہیں یہ کیوں نہیں بار بار پڑھتے۔میرا خیال ہے آپ میں سے اکثر ایسے ہوں گے جنہوں نے تعلیم سے فراغت کے بعد اس بات میں دلچسپی لینی چھوڑ دی کہ ہماری برادری کے سائنس دانوں پر کیا گزری کسی زمانہ میں کیا ہوا، کس طرح وہ آگے نکلے، ان کی