مشعل راہ جلد سوم — Page 369
369 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم سکتی۔تراویح کی روح دراصل تہجد کا متبادل ہے یعنی وہ نوافل جو تہجد میں پڑھنے ہیں وہ آپ رات کو پڑھ لیں تہجد کے متعلق قرآن کریم نے جو اصولی تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ جس قدر بھی قرآن کریم میسر آ جائے پڑھ لیا جائے۔میسر آنے سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کی اپنی توفیق ہے اپنا علم ہے جتنی سورتیں یاد ہیں اس کے مطابق وہ تہجد کے وقت پڑھ سکتا ہے ورنہ کتاب کھول کے تو نہیں پڑھ سکتا۔پس یہ سنت جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی جاری ہوئی اس میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک زائد حسن پیدا کرنے کی خاطر یہ بات پیدا کی۔فرمایا اگر با جماعت تراویح کا انتظام کرنا ہی ہے تو کیوں نہ میں ایک قاری کو مقرر کر دوں۔چنانچہ ایک قاری جو بہت ہی خوش الحان تھے ان کو آپ نے مقرر فرما دیا۔ابھی یہ بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے کہ وہ پورا قرآن کریم پڑھ لیا کرتے تھے مگر بالعموم نتیجہ یہی نکالا جاتا ہے کہ ان کو غالباً سارا قرآن کریم حفظ ہوگا اور سارے قرآن کریم کا دور کرتے ہوں گے۔تو سارا دور ضروری بھی نہیں ہے یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ سارے قرآن کریم کا دور مکمل کیا جائے۔بعض بدعتیں بھی مسلمانوں میں پیدا ہونی شروع ہو گئیں۔چنانچہ بعض جگہ قرآن کریم سامنے کھول کر رکھا جاتا ہے اور وہاں سے پڑھ کر تراویح کی جاتی ہے۔حالانکہ باہر سے اگر قرآن کریم پڑھنا ہے تو تہجد کی نماز تو ختم ہوگئی اس کا تو کچھ بھی باقی نہ رہا۔تہجد کی نماز تو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ آپ کی توجہ کسی دوسری چیز کی طرف ہو اس لئے قرآن کریم کی جو روح اور اس کا منشا ہے اس کو پورا کرنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ مَا تَيَسَّرَ مِنَ القُرآنِ۔قرآن کریم سے جو بھی میسر آجائے اس کو آپ پڑھیں۔اس لئے خواہ مخواہ تکلفات سے کام نہ لیں بلکہ جس حد تک بھی حفاظ موجود ہیں اس حد تک قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔ایک تو تنوع پیدا کرنے کے لئے اور دوسرے اس حکمت کے پیش نظر کہ بعض لوگوں کو بعض سورتیں یاد ہوتی ہیں، بعض دوسروں کو دوسری یاد ہوتی ہیں۔آپ باریاں مقرر کر سکتے ہیں یعنی بجائے اس کے کہ ایک ہی آدمی ہمیشہ تراویح پڑھائے جماعت اس بات کا جائزہ لے کر مختلف دوستوں کو جتنی سورتیں یاد ہیں ان کو جمع کر کے یہ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ قرآن کریم اس وقت سننے کا موقع مل جائے۔تربیت اولا د کا ایک اور پہلو حفظ قرآن کریم اس ضمن میں تربیت کے ایک اور پہلو سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے ایسے بچے ہیں جو ایسے ممالک میں پلنے والے ہیں جیسے انگلستان ہے یا دوسرے مغربی ممالک ہیں۔جہاں وہ