مشعل راہ جلد سوم — Page 359
مشعل راه جلد سوم 359 اس کی بہترین جزا عطا فرمایا کرتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتباہ اب میں آپ کو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض نصیحتوں سے آگاہ کرتا ہوں تا آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے الفاظ میں آپ کو جمعہ کی اہمیت کا علم ہو سکے۔آپ نے فرمایا مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللهُ عَلَى قَلْبِهِ ( ترمذی ابواب الصلوۃ باب فی ترک الجمعة من غير عذر ) آپ نے فرمایا کہ جو شخص تین جمعے مسلسل چھوڑ دے تَهَاؤنا ، یعنی جمعہ کی تخفیف کرتے ہوئے اس کی اہمیت نہ سمجھتے ہوئے اگر کوئی جمعہ پڑھنا چھوڑ دے اور اس کو مجبوری بھی کوئی نہ ہو بلکہ یہ سمجھے کہ کوئی فرق نہیں پڑتا بے شک چھوڑ دو تو طَبَعَ اللهُ عَلى قَلْبِهِ ، اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔قرآن کریم میں جب آپ اللہ کی طرف سے لگی ہوئی مہر کا ذکر پڑھتے ہیں تو کس طرح کانپ جاتے ہیں اور کیسا خوف کھاتے ہیں اس بات سے کہ نعوذ باللہ من ذالک کسی کے دل پر مہر لگے۔تو یہ دیکھ لیں عمد أجمعہ چھوڑنے کی وجہ سے خدا تعالی کی طرف سے ناراضگی کا کتنا بڑا اظہار ہے۔اگر چہ قرآن کریم میں اس ضمن میں یہ بات موجود نہیں مگر سبت کی بے حرمتی کے نتیجہ میں یہود کے دلوں پر مہر لگنے کا ذکر موجود ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استناد قرآن کریم سے ہی فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس نصیحت کی جڑ قرآن کریم میں موجود ہے۔جو تو میں اپنے اہم مذہبی دن کی تکریم سے غافل ہو جائیں اور اس کی بے حرمتی کریں تو بالآخر ان کے دلوں پر مہریں لگا دی جاتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دوسری جگہ فرمایا : - لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَّدْ عِهِمُ الْجُمُعَاتِ اَوَ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوْبِهِمُ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْعَفِلَيْنَ ( صحیح مسلم کتاب الجمعة ) اس حدیث میں بھی مختلف الفاظ میں وہی مضمون بیان ہوا ہے جو ترمذی کی حدیث کے حوالے سے اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قومیں اس بات سے باز رہیں کہ وہ اپنے جمعوں کو چھوڑ دیں۔اس کے بعد صاف پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیش نظر مستقبل کے خطرات تھے اور قرآن کریم میں جو پیشگوئی کی گئی ہے وہ مستقبل کی پیشگوئی ہے۔اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خیال آیا کہ جب مسلمان کئی قوموں میں بٹ جائیں گے تو اس وقت یہ خطرات لاحق ہوں