مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 31

مشعل راه جلد سوم 31 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی سائنس سے تعلق رکھتا تھا اس کو اپنے نظریات کی بڑی بھاری قیمت دینی پڑی۔اس میں تمام مذاہب کے ماننے والے مشترک تھے۔یہ ایک عجیب تضاد تھا کہ اس وقت مذہب کے نام پر جھوٹ اکٹھا ہو گیا تھا اور لامذہبیت کے نام پر سچائی ایک طرف نظر کر الگ ہو گئی تھی اور اللہ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب کے نام پر جھوٹ کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔خواہ مذہب کا نام کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو اور لامذہبیت کے نام پر سچ پرورش پائے گا۔خواہ لامذہبیت کیسی ہی بُری کیوں نہ دکھائی دے۔چنانچہ سچائی کی طاقت سے لامذہبیت وہاں جیتی ہوئی نظر آتی ہے اور مذہب شکست کھا تا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ اہل مذہب دکھ دینے والے بن گئے اور بظاہر جولا مذہب کہلا رہے تھے وہ دکھ سہنے والے بن گئے تھے۔چنانچہ یہودیوں نے بھی اس سلسلہ میں قربانیاں دیں ،عیسائیوں نے بھی دیں۔سچائی کی خاطر صرف سائنٹسٹ کو قربانی نہیں دینی پڑی۔ہر علم کے شعبہ کو قربانیاں دینی پڑیں۔Spinoza ایک مشہور جرمن فلاسفر ہے اس نے جب یہ دیکھا کہ اس کے ایک ساتھی کو محض سچائی کے جرم میں دکھ دیا گیا یہاں تک کہ اس نے خود کشی کر لی تو اس نے واقعات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان باتوں کا اظہار شروع کر دیا جو اس کے نزدیک کچی تھیں۔ان میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو یہودیت کے خلاف اور اسلام کے حق میں ہیں۔چنانچہ اس نے ایسے بہت سے تصورات پیش کئے جن کا تعلق یہودیت سے ہے نہ عیسائیت سے بلکہ اسلام سے ہے لیکن اس بیچارے کو پتہ نہیں تھا کہ میں یہ کیوں کہ رہا ہوں اور کیا کہہ رہا ہوں۔صرف متقی تھا اپنی تعریف کے اندر۔چنانچہ اس نے اعلان کیا کہ یہ ناممکن ہے کہ خدا نے کسی ایک قوم کو فضلوں کے لئے چن لیا ہو اور باقی سب دنیا والوں کو اس سے محروم کر دیا ہو۔گویا وہ إِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ - (الفاطر:25) کا ہی اعلان کر رہا تھا۔وہ یہ اعلان بھی کر رہا تھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ تجسم اختیار کر لے۔خواہ وہ کسی شکل میں اس نے اختیار کیا ہو۔تو یوں بیک وقت وہ عیسائیت کے خلاف بھی کھڑا ہوا اور یہودیت کے خلاف بھی لیکن خود نہیں جانتا تھا کہ میں کس کی تائید کر رہا ہوں۔چنانچہ اس پر دہریت کا الزام لگایا گیا، کیونکہ دو خدا ہی وہ جانتے تھے۔یا عیسائیت کا تجسم خدا اور یاوہ خدا جو بنی اسرائیل کو باقی سب لوگوں پر فوقیت دے رہا تھا اور سوائے ان کے کسی اور سے کلام ہی نہیں کرتا تھا۔پس اس الزام میں اس کو بلایا گیا اور اس کو دھمکی دی گئی۔یہودی بڑے لوگوں یعنی Synagogue کے نمائندوں نے اس کو بلایا اور اس کو کہا کہ اب تمہارے پاس دو ہی رستے کھلے ہیں یا -Ex